بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف ان کی بہن علیمہ خانم نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔
علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے درخواست دائر کی، جس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات، چیئرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے اور ایم ایس پمز کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 8 اپریل کو وکیل سے ہونے والی ملاقات میں معلوم ہوا کہ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ 22 گھنٹے جبکہ بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ سے بانی پی ٹی آئی کی نہ اہلِ خانہ سے ملاقات کرائی گئی اور نہ ہی پارٹی رہنماؤں سے ملنے کی اجازت دی گئی۔
بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے بغیر بتائے محسن نقوی سے ملاقات کی ، علیمہ خان
درخواست گزار کے مطابق کسی عدالتی فیصلے میں بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کا حکم موجود نہیں، اس کے باوجود انہیں اس سخت سزا جیسی صورتحال کا سامنا ہے، جو غیر قانونی اور غیر انسانی سلوک کے مترادف ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے وکیل سے ملاقات کے دوران بتایا کہ ان کی ایک آنکھ تقریباً 85 فیصد متاثر ہو چکی ہے، جس پر فوری طبی توجہ کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھنا غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس عمل سے روکنے اور قانونی و آئینی حقوق کی فراہمی کے احکامات جاری کیے جائیں۔
