اداکارہ مومنہ اقبال کو تنقید کا نشانہ بنانے والے اپنے متنازع بیان پر علامہ ناصر مدنی نے معذرت کر لی ہے۔ یہ پیش رفت مومنہ اقبال کی جانب سے قانونی نوٹس بھیجے جانے کے بعد سامنے آئی۔
چند روز قبل علامہ ناصر مدنی نے اپنے مخصوص اندازِ بیان میں مومنہ اقبال اور ثاقب چڈھر کے متعلق بیان دیا تھا، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا۔ اس کے بعد اداکارہ نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا، اس معاملے کی پیروی ان کی بہن اور وکیل رمشہ اقبال نے کی۔
اب اپنے تازہ بیان میں ناصر مدنی نے اپنے سابقہ مؤقف پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے مومنہ اقبال اور ان کے اہلِ خانہ سے معذرت کر لی۔
مومنہ اقبال کی رخصتی کب ہوگی؟بہن نے بتادیا
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بیان سے مومنہ اقبال اور ان کے اہل خانہ کی دل ازاری ہوئی ہے تو وہ کافی شرمندہ میں اور مومنہ اقبال سے معذرت کرتے ہیں۔
ناصر مدنی نے مزید کہا کہ رمشہ اقبال قانون کے شعبے میں ایک معتبر نام ہیں اور انہیں تمام بیٹیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ پاکستان کی ہر بیٹی کی عزت و وقار کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کسی بھی خاتون کی عزت کو تنازع کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔
واضح رہے کہ علامہ ناصر مدنی کو ڈیفمیشن آرڈیننس کے سیکشن 8 کے تحت قانونی نوٹس بھجوایا گیا ۔ نوٹس کے متن میں کہا گیا تھا کہ علامہ ناصر مدنی نے اپنے ویڈیو پیغام میں ادکارہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرکے اداکارہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
مومنہ اقبال اور ثاقب چڈھر تنازع ، خلیل الرحمٰن قمر بھی بول پڑے
نوٹس میں مزید کہا گیا کہ علامہ ناصر مدنی اداکارہ سے متعلق تمام ویڈیوز فوری طور پر ڈیلیٹ کریں ، عوامی سطح پر اپنے بیان پر غیر مشروط معافی مانگیں اور اداکارہ کی ساکھ متاثر کرنے پر 19 کڑور ہرجانہ ادا کریں۔
ناصر مدنی کے معذرتی بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
