امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 70 ڈالر سے نیچے آنے کے بعد ملک میں پیٹرول کی قیمت فوری طور پر کم کر کے 225 روپے فی لیٹر کی جائے۔
انہوں نے ایکس پر جاری ایک بیان میں واضع کیا کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی اس بڑی کمی کا پورا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے، اور آئل کمپنیوں کے نقصانات یا دیگر حیلے بہانوں کو جواز بنا کر غریب عوام کو اس جائز معاشی ریلیف سے محروم نہ کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ مہنگا پیٹرول اور ڈیزل ملکی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں، اگر حکومت واقعی معیشت کا پہیہ چلانا اور صنعتی و کاروباری سرگرمیاں بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں فوری اور نمایاں کمی کرنا ہوگی۔
انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد بھاری پیٹرولیم لیوی کا فوری خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کو حقیقی اور بڑا ریلیف مل سکے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل اب 70 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگیا ہے۔
پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر پر لائی جائے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو جواز بنا کر حکومت عوام کو پٹرول کی قیمتوں میں ریلیف سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، معیشت کا پہیہ چلانا ہے تو پٹرول و ڈیزل سستا کرنا ہوگا ، لیوی کا خاتمہ… pic.twitter.com/J8NSbnpZql— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) June 26, 2026
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ حکومت ٹرانسپورٹ کے کرایوں سمیت تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بھی سرکاری سطح پر کم کروائے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا ہو سکے۔
دوسری جانب عمان کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے میں کارگو جہاز پر پروجیکٹائل حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 1.52 ڈالر یا 2.1 فیصد اضافے کے بعد 75.26 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 1.58 ڈالر یا 2.3 فیصد اضافے سے 71.92 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
گزشتہ روز خام تیل کی قیمتیں 27 فروری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آئی تھیں، جو جنگ کے آغاز سے ایک دن قبل کی صورتحال تھی۔
