اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت اور پاکستان کی آئل انڈسٹری کے درمیان بڑا تنازع سامنے آ گیا۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ریفائنریز نے الزام عائد کیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے عالمی پریمیم اور پلاٹس کے اوسط نرخوں کا درست حساب نہیں لگایا۔ جس کے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 45 روپے فی لیٹر اور موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 11 روپے فی لیٹر تک اضافی کمی کر دی گئی۔
آئل انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز کے مطابق حالیہ قیمتوں کے جائزے کے دوران اوگرا نے پریمیم کے حقیقی اخراجات اور قابل اطلاق پلاٹس کے اوسط نرخوں کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا، جس سے قیمتوں کے تعین میں فرق پیدا ہوا۔
انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے تاکہ مستقبل میں مارکیٹ کے حقیقی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گزشتہ تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ قیمتوں کے جائزے میں پیٹرول کی قیمت میں 22 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز زیر غور ہے۔ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 42 روپے فی لیٹر تک کم کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ کمی کی منظوری دی جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر بلکہ عام صارفین تک بھی پہنچیں گے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل سستی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 27 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔ اگر اس تجویز کی منظوری دی گئی تو صارفین کو ملنے والے ممکنہ ریلیف کی شرح متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عراق کا تیل پیداوار کا کوٹہ نہ بڑھانے پر اوپیک سے علیحدگی پر غور
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی، رسد میں اضافے اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کے باعث سامنے آئی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت کئی درآمدی ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔
