وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ نائن بازار میں آگ لگ گئی،فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پر قابو پانے میں مصروف ہے،آگ بجھانے کیلئے راولپنڈی سے ریسکیو کی اضافی گاڑیاں طلب کرلی گئیں۔
ضلعی انتظامیہ کا موقف
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ80 فیصد آگ پر قابو پا لیا گیا ہے،9 سیکشنز پر آگ لگی، 7 پر قابو پا لیا گیا ہے،باقی 2 سیکشنز میں بھی آگ بجھانے کا سلسلہ جاری ہے۔
آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر فی الفور موقع پر پہنچے،امدادی سرگرمیوں میں ریسکیو 1122 راولپنڈی کی ٹیمز بھی حصہ لے رہی ہیں۔
آگ لگنے کی وجوہات کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں،بازار میں ایل پی جی سیلنڈرز کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر کاروائیاں جاری ہیں۔
ایل پی جی سیلنڈرز کے استعمال پر گزشتہ روز 9 دکانداروں کو گرفتار بھی کیا گیا،ایل پی جی سیلنڈرز کے بازاروں میں استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا ردعمل
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ایچ نائن بازار کے 9حصوں میں آگ لگی تھی،آگ پر مکمل قابو پانے میں ابھی کچھ دیر لگے گی،آگ لگنے کے باعث بازارکا 20فیصدحصہ متاثر ہوا۔
7حصوں پر قابو پالیا گیا ہے،2پر آگ بجھانے کاعمل جاری ہے،آگ لگنے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں ،کپڑے کے اسٹالز پر آگ لگی جس کے وجہ سے آگ جلدی سے پھیلی۔
آل پاکستان انجمن تاجران
آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ اتوار بازار میں آگ بجھانے میں ناکامی کی ذمہ دار ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہے۔چوتھی مرتبہ تاجروں کا کروڑوں روپےکا مال جل کر راکھ ہوگیا۔
ڈی جی ڈیزاسٹر مینجمنٹ سی ڈی اے کو فوری برطرف کیا جائے،ذمہ داروں کے علم میں ہے کہ سات منٹ کے اندر آگ پر قابو پانا ضروری ہے،سات منٹ میں آگ پر قابو نہ پایا جاسکے تو پھر نقصان سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کئی بار کہہ چکے ہیں فائر بریگیڈ کی گاڑی ہر سیکٹر کے درمیان کھڑی کی جائے،پچھلے چیئرمین سی ڈی اے نے احکامات بھی جاری کئے تھے عمل نہیں کیا گیا۔
ذمہ داروں کا تعین کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔آل پاکستان انجمن تاجران متاثرہ تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے،حکومت نے متاثرہ تاجروں کے نقصان کا ازالہ نہ کیا تو احتجاج کا اعلان کریں گے۔
