وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر 2018 ان انتخابات میں بھرپور جادوگری، بیلٹ بکس بھرنے اور دھمکیاں دینے کے الزامات درست نہیں تو اس کی مکمل تحقیقات کرالی جائیں، اگر 2018 کی حکومت کو آئینی اور جائز حکومت تسلیم کیا جاتا ہے تو موجودہ حکومت بھی اتنی ہی جائز اور آئینی حیثیت رکھتی ہے۔
وہ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے جبکہ ان کے خطاب سے قبل اپوزیشن رہنما اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔
شہبازشریف نے کہا کہ ماضی کے انتخابی عمل پر بحث شروع ہوئی تو اس کے اثرات بہت دور تک جائیں گے اور اس حوالے سے تمام حقائق قوم کے سامنے آنے چاہییں۔
انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے انتخابات سے متعلق تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
ایران امریکہ مذاکرات اور ایرانی صدر کے دورے کے حوالے سے ہاؤس کو بریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج ایرانی صدر تشریف لارہے ہیں، آج پاک ایران مستقبل کے لئے اہم دن ہے، پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کی نئی بلندیوں کے فیصلے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ چند روز قبل برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے، جس میں پاکستان نے بھی بطور ثالث اپنا کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کاش محترم لیڈر آف دی اپوزیشن محترم اچکزئی صاحب تشریف رکھتے تو بڑے ادب سے ان کی خدمت میں معروضات پیش کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات پر ہونے والی پیش رفت خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے اور پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو آگے بڑھانے میں معاون کردارادا کیا۔
اجلاس سے واک آؤٹ کر جانے والی اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ میری تقریر نکلوا لیں میں نے صوبوں کے خلاف کوئی بات نہیں کی، میں نے تو صوبوں کی تعریف کی ہے، سب صوبوں کی ترقی ہی پاکستان کی ترقی ہے، میری تقریر کو اپوزیشن لیڈر نے غلط رنگ دیا۔
“اگر پنجاب ترقی کرتا ہے تو وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہے، اگر صبح سندھ ترقی کرتا ہے تو وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہے، جب تک چاروں صوبے ترقی کی اس دوڑ میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے، وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہے۔”
