پاکستانی نژاد زیدان اقبال کی فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت نے کروڑوں پاکستانی شائقین کے دل جیت لیے۔
فٹبالر زیدان اقبال نے اپنے پاکستانی والد کی بہترین تربیت کو اپنی کامیابی کی وجہ قرار دیا ، پاکستانی نژاد فٹبالر زیدان اقبال کا کہنا تھا کہ اگر میں پاکستان کی نمائندگی کرتا تو بطور پاکستانی میرے والد زیادہ خوش ہوتے ۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فیفا ورلڈ کپ میں زیدان اقبال کی موجودگی نے مختلف ممالک میں رہنے والے پاکستانی بچوں کا حوصلہ بڑھا دیا، عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والے زیدان اقبال نے نوجوان نسل کیلئے روشن مثال قائم کر دی۔
عراق کو فیفا ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میچ میں ناروے کے ہاتھوں 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم پاکستان کے لیے یہ مقابلہ ایک تاریخی لمحہ ثابت ہوا۔ عراقی ٹیم کی جانب سے میدان میں اترنے والے پاکستانی نژاد فٹبالر زیدان اقبال فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔
امریکا کی ریاست میساچوسٹس کے شہر فاکسبورو میں کھیلے گئے گروپ آئی کے میچ میں زیدان اقبال 59ویں منٹ میں میدان میں آئے اور اسی کے ساتھ پاکستانی فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوگیا۔
پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم آج تک ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی اور فیفا رینکنگ میں نچلے درجوں میں موجود ہے۔ ایسے میں 23 سالہ زیدان اقبال کی ورلڈ کپ میں شرکت پاکستانی فٹبال شائقین کے لیے فخر کا باعث بن گئی ہے۔
زیدان عمار اقبال 27 اپریل 2003 کو انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عمار اقبال کا تعلق پنجاب کے شہر ساہیوال سے ہے جبکہ والدہ آیات عراق سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس پس منظر کے باعث زیدان کو انگلینڈ، پاکستان اور عراق تینوں ممالک کی نمائندگی کا حق حاصل تھا تاہم انہوں نے عراق کے لیے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق عراقی فٹبال حکام نے سوشل میڈیا کے ذریعے زیدان سے رابطہ کیا اور متعدد ملاقاتوں و بات چیت کے بعد انہیں قومی ٹیم میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔ زیدان کا کہنا تھا کہ عراقی شائقین اور فٹبال فیڈریشن کی جانب سے ملنے والی محبت اور اعتماد نے ان کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
زیدان اقبال نے آٹھ سال کی عمر میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی اکیڈمی جوائن کی اور تقریباً 12 برس کلب کے ساتھ گزارے۔ دسمبر 2021 میں انہوں نے یوئیفا چیمپئنز لیگ میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے برطانوی جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے چند نمایاں کھلاڑیوں میں جگہ بنائی۔
بعد ازاں وہ نیدرلینڈز کے کلب ایف سی یوٹریخت منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ عراق کے ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے کے دوران بھی ان کی کارکردگی نمایاں رہی اور انہوں نے کئی اہم میچز میں ٹیم کی کامیابی میں کردار ادا کیا۔
اگرچہ زیدان اقبال نے عراق کی نمائندگی کا انتخاب کیا، تاہم ان کی ورلڈ کپ میں موجودگی پاکستانی فٹبال کے لیے بھی ایک تاریخی لمحہ تصور کی جا رہی ہے۔
فٹبال ماہرین کے مطابق اگر زیدان پاکستان کے لیے کھیلتے تو وہ ملک میں فٹبال کی مقبولیت بڑھانے اور نوجوانوں کو اس کھیل کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے تاہم پاکستان میں فٹبال کے محدود ڈھانچے اور بین الاقوامی سطح پر کم مواقع کے باعث ان کا فیصلہ قابلِ فہم سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی کھلاڑی محمد موہبی کے جشن نے نیا تنازع کھڑا کر دیا، جنگ سے جوڑنے کی تردید
زیدان اقبال کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایشیائی، عرب یا کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچے ان کی کہانی سے متاثر ہوں گے اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اگرچہ عراق کو اپنے افتتاحی میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن پاکستانی نژاد زیدان اقبال کی ورلڈ کپ میں شرکت نے لاکھوں پاکستانی فٹبال شائقین کو جشن منانے کا موقع فراہم کر دیا۔
