سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہےکہ مشرق وسطیٰ میں امن ہو،19تاریخ کوجنیوامیں ایران امریکا امن معاہدے پردستخط ہوجائیں گے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک ایران مذاکرات میں پیچیدہ معاملات کوحل کیا جارہا ہے،بطور ثالث اس معاملے کی ضروریات کو مکمل کیا ہے،مذاکرات کےنکات کوخفیہ رکھنا ضروری تھا،ان مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔

ہم ہیڈلائن سفارتکاری پریقین نہیں رکھتے،اس سارےعمل میں میڈیا ہاؤسزکی رپورٹنگ بہتررہی، جس پرشکریہ اداکرتےہیں، ان مذاکرات میں رابطہ کاری وزیراعظم کے ذریعے ہو رہی تھی۔
ایران امریکا مسئلےکوبطور ثالث اچھی نیت سےحل کرنےکی کوشش کررہےہیں،فیلڈمارشل کی یہ خواہش ہےکہ پاکستان سمیت خطےمیں امن واستحکام رہے،ہم خطےمیں صرف کریڈٹ لینےکیلئے نہیں بلکہ سچےامن کےلیےشامل ہوئے۔
ایک ایسی جنگ جوہم بغیر لڑے جیت چکے ہیں،ہمیں اللہ کی ذات پریقین ہےکہ اب امن قائم ہوجائےگا،مذاکرات کا یہ عمل اہل لوگوں کی وجہ سے کامیاب ہوا،اس سارےعمل کاکریڈٹ تمام مسلم لیڈرشپ کوجاتا ہے۔

جنگ نہ ہونےکی خواہش پوری مسلم امہ کی قیادت کی تھی، سب کوسلام،یواےای، سعودی عرب اورترکیہ سمیت سب مسلم ممالک کوکریڈٹ جاتاہے۔
کچھ قوتوں نےیواےای کیساتھ تعلقات خراب کرنےکی کوشش کی جوناکام ہوئی،بھارت نےخوداپنےآپ کو’’وشواگرو‘‘قراردیا ہے،بھارت ’’گریٹ ودآؤٹ گریٹنس، شائن ودآؤٹ شائننگ اور ہسٹری ودآؤٹ ہسٹری‘‘ہے۔بھارت کی قسمت میں ان کا مقدر لکھا ہوا ہے،بھارت کی ایک سال پہلےملٹری اوراب سفارت کاری بےنقاب ہو چکی۔
امریکااورایران نے ایم اویوپردستخط کردئیے
ہم اپنےاقدامات کافیصلہ خود کریں گے،دنیا بھرکےممالک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں،سب ممالک اپنےتعلقات اورمفادات کیلئے آزاد ہیں،اس وقت چین کیساتھ ہمارے تعلقات آہنی سےبڑھ کرپلاٹینیم بن چکےہیں۔
ایک پڑوسی ملک کےوزیرخارجہ بھارت گئےوہ ان کی مرضی تھی،افغان طالبان رجیم کےساتھ دہشت گردی کانام منسلک ہے،افغانستان کیساتھ اچھےتعلقات چاہتےہیں لیکن پہلےدہشتگردی ختم ہونی چاہیے۔
گزشتہ 6ماہ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر32ہزارسےزائدآپریشنزکیے گئے،خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بنیادوں پر 2 ہزار 170 آپریشنز کیے گئے،6ماہ میں ایک ہزار 861دہشتگردوں کوہلاک کیا گیا ہے،دہشتگردی کےحملوں میں 640پاکستانی شہیدہوئے،افغان طالبان رجیم خوف کےذریعےاپنااقتدارقائم رکھنا چاہتی ہے،افغانستان میں 24کےقریب دہشتگردتنظیمیں موجودہیں۔
امریکا ایران معاہدہ خوش آئند ، دستخطی تقریب کے منتظر ہیں ، اسحاق ڈار
جموں وکشمیرتقسیم برصغیرکانامکمل ایجنڈا ہے،1978میں جنگ ہوئی، پاکستان کےفوجی جوانوں اورشہریوں نےحصہ لیا،پاک آرمی میں سب سےپہلانشان حیدرکشمیرکی جنگ میں دیا گیا،1965،1971کارگل سمیت معرکہ حق بھی لڑاہے۔
مقبوضہ کشمیرمیں آج بھی لوگ کہتےہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اورپاکستان ہماراہے،مقبوضہ کشمیر کےلوگ آج بھی بھارت کے خلاف کھڑے ہیں، بھارتی فوج طاقت کے بل بوتے پر کشمیر پر کبھی قبضہ نہیں کر سکتی۔
1947میں سرحد پرجو لائن لگی آج بھی وہی ہے،اس وقت کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ معاملہ کچھ اور ہے۔بجلی اورحقوق کےنام پرپہلےعوام کی ہمدردیاں حاصل کرنےکی کوشش کی گئی،آٹا،بجلی اورحقوق کےنام پراحتجاج کرنےوالوں کےپیچھےخطرناک عزائم ہیں۔
جمہوری نظام ہمیشہ بات چیت اورمذاکرات کوفروغ دیتا ہے،آزادکشمیرمیں جمہوری نظام پاکستان سےزیادہ مضبوط ہے،آزادکشمیرمیں سڑکیں ریاست نےنہیں بلکہ انتشارپسندوں نےبند کی ہیں،انتشارپسندوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں۔
لیک مبینہ آڈیو پرحکومت متحرک، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیخلاف تحقیقات کا اعلان
نام نہادایکشن کمیٹی آہستہ آہستہ عوام کےسامنےبےنقاب ہوگئی ہے،ہم جانتےہیں کہ انتشارپسندٹولےکاآزادکشمیرمیں کیامنصوبہ ہے،ہمیں معلوم ہےکہ کون انہیں دوسری طرف کےراستےکھولنےکاکہہ رہاہے،آزادکشمیر کےعوام پراب اصل صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے۔
ریاست کوآزادکشمیرکےمعاملےمیں کوئی جلدی نہیں ہے،آزاد کشمیر سیاسی طور پر متحرک اور مضبوط خطہ ہے،مقبوضہ کشمیرکےلوگ کہتےہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیساتھ مذاکرات کیےلیکن ان کامقصد کچھ اور تھا۔اس وقت انتشارپسندوں کےعزائم کھل کرسامنے آ چکے ہیں،آزادکشمیر میں ریاست آج بھی صبروتحمل سےکام لےرہی ہے۔ایسےانتشارپسندپہلےبھی بےنقاب ہوئےاوراب بھی ہوں گے،آزادکشمیرمیں انتخابات ہورہےہیں، اب عوام ہی فیصلہ کرے گی۔
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مرکزی دفترسیل
آزادکشمیرکےتقریباً 40ہزارنوجوان پاک فوج میں خدمات سرانجام دےرہےہیں،پاک فوج میں آزادکشمیر سےتعلق رکھنےوالےتقریباً10ہزارریٹائرڈفوجی بھی ہیں،پاک فوج کےہرجوان نےآزاد کشمیر میں ڈیوٹی کررکھی ہے۔
جموں وکشمیرکےساتھ ہماری محبت بہت گہری ہے،قائداعظم محمد علی جناح نےکہاتھاکہ پاکستان کوکوئی طاقت مٹانہیں سکتی،اب پاکستان کی ترقی اورکامیابی کوکوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی۔
