تہران: ایران نے بحیرہ کیسپین میں اپنے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد یوکرین کو سخت ردعمل کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کی جانب سے ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔
ترجمان نے کہا کہ ایران اپنے تجارتی جہاز پر حملے کو نظر انداز نہیں کرے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
اس سے قبل ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے بھی کہا تھا کہ یوکرین کے اس اقدام کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا قانونی حق محفوظ رکھتا ہے اور ایران کی سرزمین یا مفادات پر کسی بھی مقام سے ہونے والے حملے کے ذمہ دار فریق کو جائز فوجی ہدف تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون معاہدے کی منظوری دے دی
یاد رہے کہ گزشتہ روز یوکرین کے صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرینی افواج نے ایک روسی جنگی جہاز کے ساتھ بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی جہاز پر حملے کی تصدیق کی۔
