اسلام آباد: پاکستان میں موبائل فون کے پری پیڈ صارفین کو بھاری ٹیکسوں کا سامنا ہے، جہاں مجموعی ٹیکس شرح 34.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث ریچارج کی مکمل رقم صارف کے استعمال میں نہیں آتی۔
اعداد و شمار کے مطابق 100 روپے کا موبائل بیلنس لوڈ کرنے پر سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں 13.04 روپے کٹ جاتے ہیں، جس کے بعد صارف کے اکاؤنٹ میں 86.96 روپے باقی رہتے ہیں۔
اس کے بعد اس رقم پر 19.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مزید 14.19 روپے کی کٹوتی ہوتی ہے۔ اور آخرکار صارف کے پاس صرف 72.77 روپے کا قابل استعمال بیلنس بچتا ہے۔
اس طرح 100 روپے کے ریچارج میں سے مجموعی طور پر 27.23 روپے مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔
ٹیلی کام شعبے سے وابستہ ماہرین اور صارفین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی سے ڈیجیٹل سہولیات، موبائل انٹرنیٹ، آن لائن تعلیم، ای کامرس اور دیگر آن لائن خدمات تک عوام کی رسائی بہتر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیلی کام کمپنیوں نے موبائل کال اور ڈیٹا پیکجز میں اضافہ کر دیا
ماہرین کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام کے باعث پری پیڈ صارفین، خصوصاً کم آمدنی والے افراد، موبائل رابطے اور ڈیجیٹل خدمات کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
