پنجاب اسمبلی کا اہم ترین اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے جس میں صوبائی وزیرِ خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے نئے مالی سال کا صوبائی بجٹ ایوان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن اراکین نے بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسپیکر کی نشست کے سامنے آ کر شدید احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی، جس کے باعث ایوان میں شدید شور شرابا دیکھا گیا۔
اس ہنگامہ خیز صورتحال اور اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود وزیرِ خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر کو مسلسل جاری رکھا ہوا ہے۔
بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 27-2026 کیلئے مجموعی بجٹ کا حجم 5903 ارب 46 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہا ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد زیادہ ہے۔
جاری اخراجات کا تخمینہ 1962 ارب 93 کروڑ روپے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 3.1 فیصد کم ہے جس کی اہم وجہ حکومت کی کفایت شعاری مہم ہے۔
اگلے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جس سے تنخواہوں کا خرچہ صرف 1.4 فیصد بڑھ کر 638 ارب 93 کروڑ روپے ہوگا جو کہ حکومت کی Rightsizing پالیسی کا نتیجہ ہے۔
اگلے مالی سال میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز کیا جا رہا ہے جس سے صوبے کے پنشن اخراجات 500 ارب 12 کروڑ روپے ہوں گے۔
عوام کو Grass Root لیول پر خدمات فراہم کرنے کی غرض سے PFC ایوارڈ کے تحت بلدیاتی اداروں کیلئے 5.2 فیصد اضافے کے ساتھ 803 ارب 88 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی جارہی ہے۔
سروس ڈیلیوری پر آنے والے اخراجات 783 ارب 2 کروڑ روپے ہونگے جس میں 578 ارب 62 کروڑ روپے اداروں کے روز مرہ کے اخراجات کے ہیں جو کہ حکومت کے موثر اقدامات کے سبب پچھلے مالی سال کی نسبت 5.1 فیصد کم ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ کرنٹ کیپیٹل اخراجات کی مد میں 679 ارب 1 کروڑ روپے بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی جارہی ہے۔
