پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کیلئے 5 ہزار 903 ارب 46 کروڑ روپے کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ صوبے کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 752 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ پیش کرتے ہوئے اسے عوام دوست، ترقیاتی اور فلاحی قرار دیا، تاہم اپوزیشن نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایوان میں شدید احتجاج کیا۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں ایک گھنٹہ چالیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں۔ بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے ’’جعلی بجٹ نامنظور‘‘ کے نعرے لگائے اور اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہو کر احتجاج کیا۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود عوامی ترقیاتی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صوبے میں ریکارڈ فلاحی منصوبے شروع کیے گئے، میرٹ پر چار لاکھ سے زائد افراد کو روزگار دیا گیا اور عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب نے دفاع پاکستان اور قومی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کیا اور وفاق کو 546 ارب روپے فراہم کیے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کا مجموعی ترقیاتی پروگرام 752 ارب روپے پر مشتمل ہوگا۔ محکمہ تعلیم کیلئے 750 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جن میں 63 ارب 30 کروڑ روپے ترقیاتی اور 686 ارب 80 کروڑ روپے غیر ترقیاتی اخراجات شامل ہیں۔
کالجوں میں 244 آئی ٹی لیبز کے قیام کیلئے 6 ارب 90 کروڑ روپے جبکہ نواز شریف اور مریم نواز سینٹرز آف ایکسی لینس و لیبارٹریز کیلئے 40 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسکول غذائی پروگرام کیلئے 4 ارب روپے رکھنے کی سفارش بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
صحت کے شعبے کیلئے 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان ویمن یونیورسٹی کے قیام کیلئے 55 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، یوتھ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کیلئے 39 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ میں شامل ہے۔
ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں بڑے منصوبوں کیلئے خطیر فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کیلئے 26 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ تحصیل ہیڈکوارٹرز کیلئے 168 ارب روپے کی لاگت سے 2 ہزار ای بسوں کے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ریلوے ٹریکس کی بحالی کیلئے 10 ارب روپے اور نہری نظام کی بہتری کیلئے 61 ارب 14 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
کھیلوں اور ثقافتی شعبے میں بھی بڑے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ لاہور میں مریم نواز اسپورٹس سٹی کیلئے 50 ارب روپے جبکہ مختلف کھیلوں کی سہولیات کی بہتری کیلئے 6 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اسی طرح پنجاب میں فلم سٹی پروگرام متعارف کرانے کیلئے 55 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ شاہدرہ لاہور میں جدید خودکار ٹیکنالوجیز سینٹر کے قیام کیلئے 99 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
امن و امان اور سیکیورٹی کے شعبے کیلئے ’’محفوظ پنجاب ویژن‘‘ کے تحت پولیس اور دیگر اداروں کیلئے 252 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
سماجی بہبود کے شعبے میں بھی متعدد نئے اور جاری منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ پروگرام کیلئے 40 ارب روپے، ہمت کارڈ پروگرام کیلئے 5 ارب روپے، اقلیتی کارڈ پروگرام کیلئے 4 ارب روپے، وزیراعلیٰ دھی رانی پروگرام کیلئے ایک ارب 70 کروڑ روپے اور عافیت اولڈ ایج ہوم منصوبے کیلئے 2 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئمہ مساجد کیلئے 18 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ مذہبی و تاریخی مقامات کی تعمیر و بحالی کیلئے 5 ارب روپے رکھنے کی سفارش بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
دیہی ترقی اور رہائشی منصوبوں کیلئے بھی بڑے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروگرام کے تحت بلاسود قرضوں کیلئے 300 ارب روپے کا منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔
مثالی گاؤں پروگرام کیلئے 10 ارب روپے، لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 10 ارب 60 کروڑ روپے اور پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 31 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جنوبی پنجاب اور کچے کے علاقوں کی ترقی کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے ’’ستھرا پنجاب‘‘ پروگرام کیلئے 170 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران اسموگ کے تدارک پر 123 ارب روپے خرچ کیے جانے کا انکشاف بھی بجٹ دستاویزات میں کیا گیا ہے۔
زرعی شعبے کو بجٹ میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ زراعت، لائیو اسٹاک اور ایکوا کلچر کیلئے 132 ارب 54 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کسان کارڈ پروگرام کیلئے 10 ارب روپے اور گرین ٹریکٹر پروگرام کیلئے 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آمدن اور محصولات کے حوالے سے بجٹ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کیلئے 528 ارب 50 کروڑ روپے، بورڈ آف ریونیو کیلئے 86 ارب 19 کروڑ روپے اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کیلئے 124 ارب روپے وصولیوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
صوبائی آمدن کا مجموعی ہدف ایک ہزار 209 ارب 86 کروڑ روپے رکھا گیا ہے جبکہ نان ٹیکس محصولات کا تخمینہ 461 ارب 17 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو 4 ہزار 390 ارب 94 کروڑ روپے منتقل ہونے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت نے معاشی استحکام، عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے متوازن بجٹ تیار کیا ہے، پنجاب آج بھی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور آئندہ مالی سال میں بھی ترقی اور خوشحالی کے سفر کو جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب اپوزیشن نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور ایوان میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
