ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں جاری ہیں، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجاویز پر ردعمل بھی دے دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا دونوں نے تہران کی حالیہ تجویز پر اپنی اپنی رائے ارسال کر دی ہے۔ ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق اسلام آباد نے اتوار کی شب ایران کی نظرثانی شدہ تجویز امریکا تک پہنچائی۔
IRAN’S FOREIGN MINISTRY SPOKESPERSON SAYS BOTH IRAN AND THE U.S. HAVE SENT THEIR COMMENTS ON THE RECENT IRANIAN PROPOSAL
IRAN’S FOREIGN MINISTRY SPOKESPERSON SAYS PROCESS OF TALKS THROUGH PAKISTANI MEDIATION IS ONGOING
— Jana Choukeir (@ChoukeirJ) May 18, 2026
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت سست ہے، کیونکہ دونوں ممالک بار بار اپنی شرائط تبدیل کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امارات اور سعودی عرب نے اپنے شہروں پر ڈرون حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
اماراتی حکام کے مطابق ابوظہبی میں ایک جوہری تنصیب کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، تاہم پلانٹ محفوظ رہا اور اس کی تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے عراقی حدود سے آنے والے تین ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ عمان کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں تاکہ اس اہم بحری گزرگاہ میں محفوظ آمدورفت کے لیے کوئی طریقہ کار طے کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مطالبات میں منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے، جبکہ ان امور پر امریکا کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
