انگلش کاؤنٹی کرکٹ کلب واروک شائر(Warwickshire)کے سابق وکٹ کیپر کیتھ پائپر(Keith Piper) 56 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
کرک انفو کے مطابق کیتھ پائپر گزشتہ کچھ عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور طویل علالت کے بعد زندگی کی بازی ہار گئے۔
کیتھ پائپر کو اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپرز میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کے دوران 200 میچز میں شرکت کی اور 500 سے زائد کیچز پکڑ کر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ نہ صرف ایک عمدہ وکٹ کیپر تھے بلکہ بیٹنگ میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے۔
میچ کے دوران دل کا دورہ، نوجوان کرکٹر انتقال کر گیا
ان کے کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ 1994 میں سامنے آیا جب انہوں نے ایجبسٹن میں ڈرہم کے خلاف ناقابل شکست 116 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اسی میچ میں ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز برائن لارا نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کا عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 501 رنز ناٹ آؤٹ اسکور کیے تھے، اور کیتھ پائپر اس تاریخی شراکت کا حصہ تھے۔
1969 میں لیسٹر میں پیدا ہونے والے کیتھ پائپر نے اپنی کرکٹ کی تربیت شمالی لندن کے معروف ہارنگے کرکٹ کالج سے حاصل کی، جسے جدید کرکٹ اکیڈمی سسٹم کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے نے متعدد نوجوان کھلاڑیوں کو پیشہ ورانہ کرکٹ تک رسائی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کیتھ پائپر کا 16 سالہ کیریئر واروک شائر کی تاریخ کے کامیاب ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ وہ 1993 سے 2002 کے دوران لارڈز میں کھیلے جانے والے سات فائنلز کا حصہ رہے جن میں سے تین میں ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 1994 اور 1995 میں مسلسل دو کاؤنٹی چیمپئن شپ ٹائٹلز جیتنے والی ٹیم میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ 1994 میں سنڈے لیگ کی فتح میں بھی شامل رہے۔
اگرچہ ان کی صلاحیتوں کے باعث انہیں کئی بار انگلینڈ کی قومی ٹیم کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا گیا، تاہم وہ قومی ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔ انہیں البتہ 1990 کی دہائی کے وسط میں انگلینڈ اے کی دو دوروں کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
کیتھ پائپر کے کیریئر کو بعض تنازعات نے بھی متاثر کیا۔ 1997 میں انہیں منشیات سے متعلق خلاف ورزی پر چار ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 2005 میں کینابس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان کا پیشہ ورانہ کیریئر تقریباً اختتام کو پہنچ گیا۔ اسی سال انہوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔
1992 کا ورلڈ کپ فائنل کھیلنے والے معروف کرکٹر انتقال کر گئے
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ واروک شائر کی سیکنڈ الیون ٹیم کے کوچ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ان کے انتقال پر کرکٹ حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
