ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ تب تک مذاکرات نہیں کئے جائینگے جب تک وہ منصفانہ پیشکش نہیں کرتے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی(abbas araghchi) نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پہلے ہی نیوکلیئر مذاکرات ہو چکے ہیں، جس کے بعد جون میں اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی کارروائی کی جس نے 12 دن جاری رہنے والی جنگ کا منظر پیش کیا۔
امریکہ کی طرف سے بے حد مطالبات کی وجہ سے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے،مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی واحد صورت یہ ہو گی کہ واشنگٹن ایسے موقف کو ترک کرے جو تہران اسے اپنی قومی سلامتی، خود مختاری یا جوہری پروگرام کے حوالے سے منافی سمجھتا ہے۔
عراقچی نے مزید واضح کیا کہ ’’اگر امریکہ مذاکرات چاہتا ہے تو لازم ہے کہ مذاکرات کے عمل کے دوران جنگ نہ ہو‘‘۔
یہ نیا موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مذاکرات کی پوزیشن پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی،ایرانی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر واشنگٹن اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا، مطلوبہ یقین دہانیاں فراہم نہیں کرتا اور ’’غیر معقول مطالبے‘‘ جاری رہتے ہیں تو نئی مذاکرات کی فضا پیدا نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کے جوہری تنصیبات تباہ کرنے کے دعوے محض خواب ہیں، ایرانی سپریم لیڈر
ایران نے ایک اور اسرائیلی جاسوس کو پھانسی پر لٹکا دیا
