برطانوی محکمہ موسمیات (met office) نے تصدیق کی ہے کہ رواں سال کو ملک کی تاریخ کا سب سے گرم سال ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے 2018 میں قائم ہونے والا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے،مریم نواز کی ہدایت
میٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران درجہ حرارت میں مسلسل غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوسط درجہ حرارت 2018 کے مقابلے میں زیادہ رہا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ برطانیہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی لپیٹ میں ہے۔
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی گرمی نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت، زراعت اور توانائی کے نظام پر بھی براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث متعدد مقامات پر خشک سالی اور پانی کی قلت جیسی صورتحال سامنے آئی، جبکہ کسانوں کو بھی اپنی فصلوں کو محفوظ رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کالاباغ ڈیم کی حمایت کر دی
ماحولیاتی تنظیموں نے کہا ہے کہ یہ صورتحال دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے سالوں میں مزید سخت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ برطانیہ میں اس سال کئی مقامات پر درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچا، جس سے شہری زندگی بھی متاثر ہوئی اور گرمی سے متعلقہ بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
میٹ آفس کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔قبل ازیں یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ ترکی میں 55 برسوں کا گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
جولائی پچپن سال بعد گرم ترین مہینہ رہا، ماہ جولائی کے آخر میں جنوب مشرقی شہر سلوپی میں درجہ حرارت 50.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو گرمی کی بلند ترین سطح تھی۔
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں گزشتہ ہفتے کے دوران استحکام
ترکی کی وزارت ماحولیات کے مطابق ملک کے 220 میں سے 66 موسمی اسٹیشنز میں درجہ حرارت اوسطاً 1.9 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
سلوپی، صوبہ شرناق میں واقع ہے اور عراق و شام کی سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، کئی ہفتوں سے تر کی گرمی کی لپیٹ میں ہے، اس وجہ سے مختلف جنگلات میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔
