واشنگٹن: امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) نے اپنی تازہ مالیاتی پالیسی میں شرح سود کو 4.25 فیصد سے 4.5 فیصد کے درمیان برقراررکھنے کا اعلان کیا ہے۔
معاشی ماہرین کی توقعات کے مطابق یہ فیصلہ مہنگائی، اقتصادی سست روی اور مستقبل کے غیر یقینی حالات کے پیش نظرکیا گیا ہے، معیشت کو آئندہ مہینوں میں متعدد خطرات لاحق ہیں جن میں افراطِ زر، عالمی مالیاتی دباؤ اورغیرمتوقع اقتصادی جھٹکے شامل ہیں۔
امریکہ نے بھارت کی سات کمپنیاں بلیک لسٹ کردیں
ان تمام عوامل کو مدِنظررکھتے ہوئے شرح سود میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، پالیسی میٹنگ کے دوران فیڈرل ریزرو کے دوارکان نے 0.25 فیصد کمی کے حق میں ووٹ دیا، تاہم اکثریتی فیصلہ شرح سود کو برقرار رکھنے پرہوا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ممکنہ طور پر فیڈ کے “ویٹ اینڈ سی” (انتظار کرو اور دیکھو) رویے کی عکاسی کرتا ہے تاکہ مستقبل کی معاشی سمت کا بہتر تعین کیا جا سکے۔
بین الاقوامی منڈیوں میں اس فیصلے کے بعد ملا جلا ردِعمل دیکھا گیا جبکہ سرمایہ کارمستقبل میں ممکنہ نرمی یا سختی کی پالیسی پرنظریں جمائے ہوئے ہیں۔
