ذوالفقار علی بھٹو معصوم شخص تھے ، غیر آئینی عدالت نے سزا دی ، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ supreme court

ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے تفصیلی رائے جاری کردی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ٰنے 48 صفحات پر مشتمل رائے تحریر کی،جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ تحریری رائے میں اضافی نوٹ دیں گے۔

فیڈرل بورڈ میٹرک سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان 12 جولائی کو کریگا

تفصیلی رائے میں کہا گیا  شفاف ٹرائل کے بغیر معصوم شخص کو سزا دی گئی،ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف کیس چلا اس وقت عدالتوں کی آئینی حیثیت ہی نہیں تھی،ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف جب کیس چلایا گیا اس وقت ملک میں مارشل لا ءتھا۔

ملک اور عدالتیں اس وقت مارشل لاء کی قید میں تھیں،آمر کی وفاداری کا حلف اٹھانے والے ججز کی عدالتیں عوام کی عدالتیں نہیں رہتیں، فیصلے کا براہ راست فائدہ ضیا الحق کو ہوا،ذوالفقار بھٹو کو رہا کردیا جاتا تو وہ ضیا الحق کیخلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلا سکتے تھے۔

بحرین میں پی آئی اے کا کنٹری مینجر گرفتار

ایف آئی اے نے بھٹو کیس کی فائل ملنے سے پہلے ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا،پولیس تفتیش مکمل کر چکی ہو تو ایف آئی اے کو فائل دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں،بھٹو کیس کی تفتیش دوبارہ کرنے کا کوئی عدالتی حکم موجود نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنی تفصیلی رائے میں مزید کہا کہ ہائی کورٹ نے خود ٹرائل کرکے قانون کی کئی شقوں کو غیرموثر کر دیا،ذوالفقار علی بھٹو کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی انہوں نے کی جن کی ذمہ داری ان کا تحفظ تھا۔

میرا وعدہ یہ تھا کہ مجھے وزیراعظم بنا دیں تو 300یونٹ بجلی فری دوں گا ، بلاول بھٹو

بھٹو کیس میں شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے،ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف کوئی براہ راست شواہد موجود نہیں تھے۔


متعلقہ خبریں