آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے پاکستان کے ضلع چکوال میں چھٹیاں گزارنے کے دوران 9 سالہ آسٹریلوی بچی ہانیہ احمد کی ہلاکت کے واقعے پر مکمل، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کینبرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے کہا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندان سمیت تمام متعلقہ افراد کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے، آسٹریلیا توقع کرتا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی مناسب، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔
آسٹریلوی وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی حکومت متاثرہ خاندان کو قونصلر معاونت بھی فراہم کر رہی ہے اور اس معاملے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
چکوال میں بچی کے جاں بحق ہونے کا واقعہ،سی سی ڈی کا ردعمل آگیا
دوسری جانب ہانیہ احمد کی ہلاکت کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بچی کے والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں ابتدا میں دفعہ 322 شامل کی گئی تھی، جو غفلت یا لاپرواہی کے باعث موت واقع ہونے سے متعلق ہے، تاہم بعد ازاں مدعیان کے اصرار پر مقدمے میں دفعہ 302 بھی شامل کر لی گئی، جو قتل سے متعلق قانون ہے۔
ادھر سربراہ سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے، جہاں انہوں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غلطی کا اعتراف کیا اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ادارے کے ایس او پیز مزید سخت کیے جائیں گے۔
واقعے نے پاکستان اور آسٹریلیا دونوں میں توجہ حاصل کر لی ہے اور تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
