لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
بیروت سے خبر ایجنسی کے مطابق حزب اللّٰہ نے اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے کے اعلان کے بعد لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی عمل میں آئی ہے اور تنظیم نے اس اعلان کے بعد سے کوئی فوجی آپریشن نہیں کیا۔
حزب اللّٰہ کے مطابق موجودہ صورتحال خطے میں استحکام اور امن کے لیے ایک مثبت موقع فراہم کرتی ہے، تنظیم نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے حوالے سے اس کا مؤقف اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری سے مشروط ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ لبنان میں اسرائیل کی آزادانہ نقل و حرکت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
امریکا ایران معاہدہ، سعودی عرب کا خیرمقدم، پاکستان اور قطر کی ثالثی کو سراہا
حزب اللّٰہ کا کہنا تھا کہ ایران نے اسرائیل کے طرزعمل اور جنگ بندی پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط میں تاخیر کی۔
تنظیم کے مطابق معاہدے میں لبنان کی شمولیت اس بات کی عکاس ہے کہ ایران خطے میں جنگ کے خاتمے اور لبنان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے، اسرائیل کی جانب سے لبنان کی خودمختاری پر کسی بھی حملے یا خلاف ورزی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
حزب اللّٰہ نے سرحدی علاقوں سے بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے دیہات میں واپسی سے قبل سرکاری حکام کی ہدایات کا انتظار کریں تاکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
