خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ایک بار پھر رات کے وقت خفیہ طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اس حوالے سے اہلخانہ اور ذاتی معالجین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر حکومت کا رویہ شفاف نہیں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ شام کے بعد کسی قیدی کو جیل سے باہر منتقل کرنا جیل مینوئل کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس لیے حکومت کو اس اقدام کی وضاحت کرنی چاہیے۔
عمران خان کی آنکھ کا معائنہ ، انجکشن لگانے کے بعد اسپتال سے جیل منتقل
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر طبی معائنے یا علاج کی ضرورت تھی تو اہلخانہ اور معالجین کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔
وزیراطلاعات نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تمام معلومات شفاف انداز میں عوام اور اہلخانہ کے سامنے لائی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے اہلخانہ کے مطالبے کے مطابق الشفا آئی اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کے علاج اور طبی معائنے کے حوالے سے موجود خدشات کا خاتمہ ہو سکے۔
