سائفرکیس،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمودقریشی بری،رہائی کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ islamabad high court

اسلام آباد ہائیکورٹ نےسابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمودقریشی کو سائفرکیس سے بری کردیا۔

سائفر کیس میں سزاؤں کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں سزاؤں سے متعلق فیصلہ سنادیا۔سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمودقریشی قریشی کی سائفرکیس میں اپیلیں منظورکرلی گئی ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما تنویر اسلم راجہ گرفتار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،محفوظ فیصلہ اسلام ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سنایا۔

علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں کا مختصر تحریری حکم نامہ جاری کردیا،حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود کسی اور مقدمے میں گرفتار نہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔

30جنوری کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے ،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود کو 15 اگست کی ایف آئی آر کے الزامات سے بری کیا جاتا ہے،کیس کا تفصیلی حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

مہنگائی کی شرح گرنے کا رجحان جاری، مئی میں 3.2 فیصد کمی ریکارڈ

قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹرکے مطابق ہم نے 342 میں گناہ تسلیم کیا ہے۔ سیکریٹریٹ رولز کے مطابق اعظم خان جوابدہ ہیں ان سے پوچھا جانا چاہیے۔ سکریٹریٹ رولز کا ذکر حامد علی شاہ نے یہاں نہیں کیا۔

تیل برآمدکرنے والے ممالک کا پیداوار میں کمی رکھنے پر اتفاق

وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کی مختلف عدالتی نظریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعظم خان نے سائفر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو دیا، اس سے متعلق کوئی دستاویز موجود نہیں۔

چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ سائفر وصولی سے متعلق تو آپ کے مؤکل کا اپنا اعتراف بھی موجود ہے۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ تو پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بات ثابت کریں، قانون بڑا واضح اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں۔

رئیل سٹیٹ سیکٹر پر ٹیکس بڑھانے کی تیاری

سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنے کی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ اگر 342 کا بیان لینا ہے تو مکمل بیان کو لیا جائے گا، ٹکڑوں میں بیان نہیں لے سکتے۔ رات 12 بجے تک سماعت ہوئی، صبح 8 بجے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ جب 342 کا بیان ریکارڈ ہوا، اس دن فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔

اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2 کونسلز جنہوں نے ٹرائل کورٹ میں جرح کی انہوں نے کبھی کرمنل کیس لڑا ہے۔ اگر انہوں نے کیسز لڑے ہیں تو تمام کیسز کی لسٹ تیار کر کے عدالت میں جمع کروا دیں۔

سریے کی فی ٹن قیمت میں سالانہ بنیادوں پر بڑی کمی ریکارڈ

اس دوران عمران خان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لاپرواہی کا الزام جو بانی چیئرمین پر لگا ہے یہ الزام ان پر لگتا ہی نہیں۔ 4 گواہان کے مطابق سائفر کی حفاظت اعظم خان کی ذمہ داری تھی، دو سال تحقیقات ہوئیں اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی، باقی 8 کاپیاں بھی ایف آئی کی کارروائی کے بعد وآپس ہوئیں۔ جو 8 کاپیاں لیٹ آئیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

لاہور، گرلز ہاسٹل کے واش روم میں خفیہ کیمرے لگنے کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ سائفر اگر گم ہوگیا تو انٹیلیجنس بیورو کو بتانا ہوتا ہے جو کہ نہیں بتایا گیا، غیر ذمہ داری کی بات ہورہی تو یہ کیس وزارت خارجہ نے کیوں نہیں بنایا؟ وزارتِ خارجہ دو ماہ بعد صرف گواہی کے لیے اس کیس میں آئے، جس بندے کو گواہ بنایا اس نے خود کہا کہ سائفر گم ہوگیا تھا، وزارتِ خارجہ کو میٹنگ کے لیے اپنی کاپی لانے کا کہا گیا تھا اور وہ اپنی کاپی ساتھ لے آئے۔


متعلقہ خبریں