شاکر اللہ قتل: جیل سپرنٹڈنٹ کیخلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان

شاکر اللہ قتل: جیل سپرنٹڈنٹ کیخلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان | ہم نیوز

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے شاکر اللہ کے قتل پر بھارتی جیل سپرنٹڈنٹ کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کردیا۔

ایف آئی آر درج کرنے کا اعلان وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے سینیٹ اجلاس کے دوران کیا۔

شریں مزاری نے کہا کہ پاکستان میں شاکر اللہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہوا، قتل کی شکایت آئی سی آر سی کردی ہے۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو مشترکہ جوڈیشل کمیٹی بحال کرانے کی تجویز دی ہے، کمیٹی میں انڈیا پاکستان کے چار چار ججز ہوتے ہیں، کل یہ معاملہ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بھارتی جیل میں قتل ہونے والے شاکر اللہ کو سپرد خاک کردیا گیا

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیٹی کو فعال بنانے کی ضرورت ہے، بھارت کو چاہیے کہ جس طرح ہم بھارتی ماہی گیروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ویسے ہی وہ بھی کریں،۔

شیریں مزاری نے کہا کہ ضرورت پڑی تو معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جائیں گے۔

شاکراللہ پر تشدد ریاستی تشدد ہے، شیریں رحمان

اس موقع پر پی پی پی رہنما شیری رحمان کا کہنا تھا کہ شاکراللہ پاکستان کا شہری ہے اور اس کا کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، شاکر اللہ پر جو بہیمانہ تشدد ہوا کوئی اس پر نہیں بولا۔

شیری رحمان نے کہا کہ شاکراللہ پر تشدد ریاستی تشدد ہے، اگر ہمارے ہاں کسی جیل میں کسی بھارتی کے ساتھ یہ سلوک ہوتا تو سوچے کیا ہوتا، کہاں سو رہی ہے وزارت خارجہ، ہمیں دعووں کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاکر اللہ کا جسم چھنی کیا گیا اور کسی نے اس کے خاندان کو نہیں پوچھا، ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے بار بار سوال کرنے پر کیونکہ کوئی جواب نہیں آتا، ہمیں حقارت سے دیکھا جاتا ہے،یہ زات کا نہیں پاکستان کی ریاست کا مسئلہ ہے۔

رہنما پی پی پی کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کے نیشنل ایکشن پلان پر کیوں کوئی نہیں بولتا، ٹی وہ پر جانا کافی نہیں ایوان میں آکر جواب دینا چاہیے۔

شیری رحمان نے کہا کہ ہم کسی پارٹی کے ساتھ نہیں پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں، اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے، ہم نے بھی حکومتیں چلائیں ہیں اور سینیٹ اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں رکاوٹ نہیں آئی، عہدوں پر ہیں تو اپنی ذمہ داری سمجھیں، یا کہہ دیں کہ ہمیں کچھ نہیں پتا۔

شاکر اللہ قتل

50 سالہ پاکستانی شہری شاکر اللہ کو 20 فروری کو بھارتی جیل جے پور میں انتہا پسندوں نے ظالمانہ طریقے سے قتل کر دیا تھا۔ ذہنی طور پر معذور شاکر اللہ نے سال 2003 میں غلطی سے سرحد پار کی تھی۔

مقتول شاکر اللہ کو بھارتی عدالت نے دہشت گردی کے الزام میں سال 2017 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔


متعلقہ خبریں