امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو تاحال پابندیوں میں کسی قسم کی نرمی یا منجمد اثاثوں کی واپسی نہیں ہوئی۔
این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ امریکا یا اس کے خلیجی اتحادیوں کی جانب سے ایران کو کوئی رقم جاری نہیں کی گئی۔
جے ڈی وینس کے مطابق اگر ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اسے متعلقہ فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات پر ایران کو مالی ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ معاہدے کے تحت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کار ایران جائیں گے جبکہ آئی اے ای اے اور امریکا مل کر انتہائی افزودہ یورینیم کو تلف کریں گے، ان کے بقول ایرانی افزودہ یورینیم کی تلفی معاہدے کا بنیادی اور واضح حصہ ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے جبکہ تفصیلی امور آئندہ تکنیکی مذاکرات میں طے کیے جائیں گے، انہوں نے اعتراف کیا کہ معاہدہ عمومی نوعیت کا ہے اور اس کے کئی اہم پہلو ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
امریکااورایران نے ایم اویوپردستخط کردئیے
ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسے گروہوں کی مالی معاونت بھی روکنے کا پابند ہوگا جنہیں واشنگٹن دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
