ڈیوڈ مالپاس: عالمی بینک کی صدارت کے لیے نامزد


واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ خزانہ کے اعلی عہدیدار ڈیوڈ مالپاس کو عالمی بینک (ورلڈ بینک) کی صدارت کے لیے نامزد کردیا ہے۔

ڈیوڈ مالپاس نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے معاشیات کے مضمون میں سند حاصل کررکھی ہے۔ وہ سابق امریکن صدور ریگن اور جارج بش کے ادوار میں بھی امریکی محکمہ خزانہ میں مختلف مناصب پہ کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق 62 سالہ ڈیوڈ مالپاس ٹرمپ کوامریکی صدر کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور وہ 2016 میں ان کے مشیر برائے معیشت بھی رہ چکے ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں گزشتہ دنوں ان کے حوالے سے یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ گزشتہ برس مالپاس کے دفتر سے 20 افراد نے صرف اس لیے استعفیٰ دے دیا تھا کہ وہ ان کے انتظامی امور سے ناراض تھے۔

ڈیوڈ مالپاس پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے جو سرمایہ کاری بینک شروع کیا تھا وہ مالی بحران کا شکار ہو کر2008 میں بند ہوگیا تھا۔ ماہرین معاشیات کے مطابق جو شخص ایک بینک نہ چلا سکے وہ عالمی بینک کی صدارت کیونکر اور کیسے چلا سکے گا؟

امریکی صدر کی جانب سے عالمی بینک کی صدارت کے لیے نامزد ڈیوڈ مالپاس کی معاشی فرم بھی ہے۔


متعلقہ خبریں