نواز، مریم کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر


لاہور: سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی احتساب عدالت سے سزاؤں کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی۔

درخواست سینئیر قانون دان  اے کے ڈوگر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 12 اکتوبر 1999 کو ملک میں مارشل لا لگایا گیا جو نیب آرڈیننس بننے کے 120 دن بعد غیر مؤثر ہو گیا تھا۔

درخواست گزار اے کے ڈوگر نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کا قانون آٹھارویں ترمیم کے بعد ختم ہو چکا ہے جب کہ ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کو اس قانون کے تحت سزا دی گئی جو کہ ختم ہو چکا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزا ایک مردہ قانون کے تحت دی گئی جس کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں تھی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف اور دیگر کو نیب کے مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا کو کالعدم قرار دے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزا 

احتساب عدالت نے سات جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو 10 سال قید بامشقت اور ایک سال اضافی قید کی سزا سنائی تھی۔ مریم نواز کو آٹھ اور ایک سال اضافی قید کی سزا جب کہ کیپٹن صفدر کو اعانت جرم میں ایک سال قید اور جرمانوں کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ نوازشریف نے آمدن سے زائد اثاثے بنائے اور وہ آمدن سے زائد اثاثوں کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔ نواز شریف اور دیگر کو آمدن سے زائد اثاثے اور بے نام جائیدادیں بنانے پر سزا سنائی گئی۔

نیب ریفرنسز اور پانامہ کیس

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کیس کے اپنے 28 جولائی 2017 کے فیصلے میں نیب کو حکم دیا تھا کہ نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف چھ ہفتے کے اندر ریفرنس دائر کیا جائے۔ عدالت نے اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ 

عدالت عظمی نے احتساب عدالت کو حکم دیا تھا کہ چھ مہینے میں ریفرنسز کی سماعت کر کے فیصلہ سنائے۔ عدالت نے ریفرنسز کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کے ایک جج کو بھی مقرر کر دیا تھا۔ ابھی تک صرف ایک ریفرنس کی سماعت مکمل ہوسکی ہے جب کہ باقی ریفرنسز اسلام آباد کی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ 


متعلقہ خبریں