عمران فاروق کی 8ویں برسی، قاتل کیفرکردار کو نہ پہنچ سکے


کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول بانی رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی آج آٹھویں برسی ایک ایسے وقت میں منائی جارہی ہے جب قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا، ان کے اہل خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

ایم کیو ایم کے بانی رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ء کو شام ساڑھے پانچ بجے لندن کے علاقے ایج ویئر کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر چھریوں اور اینٹوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ عمران فاروق کی موت چھریوں کے وار سے واقع ہوئی ہے۔

جون 2015ء میں ڈاکٹر عمران فاروق کی ہلاکت کے سلسلے میں حساس اداروں نے پاکستان میں دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کو چمن سے گرفتارکیا تھا جب کہ ایک اور ملزم معظم علی کو کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز ‘نائن زیرو’ کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔

عمران فاروق قتل کے ملزمان سے تفتیش کے دوران کئی انکشافات سامنے آئے تھے۔ دو مئی 2018 کو اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے تینوں ملزموں پر فرد جرم عائد کردی تھی۔

عمران فاروق قتل کے چالان میں کہا گیا تھا کہ بانی ایم کیو ایم لندن عمران فاروق کے قتل کی سازش میں شریک ہیں۔

ڈاکٹر عمران فاروق کا شمار متحدہ قومی موومنٹ کے بانی قائدین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 1978 میں آل پاکستان مہاجرقومی موومنٹ کی بنیادرکھنے میں مدد کی تھی۔ 1984 میں جب مہاجر قومی موومنٹ نے آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بطن سے جنم لیا تو عمران فاروق اس کے پہلے جنرل سیکرٹری اور کنوینئر منتخب ہوئے ۔

1988 اور 1990 میں ڈاکٹر عمران فاروق کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا سے ممبر قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر بھی رہے۔

1992 میں جب متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تو وہ روپوش ہوگئے۔ سات سال روپوشی کی زندگی گزارنے کے بعد ڈاکٹرعمران فاروق 1999 کو پاکستان سے فرار ہوکر لندن پہنچے اور سیاسی پناہ حاصل کرلی۔

قتل کے وقت ڈاکٹر عمران فاروق نے اپنے پسماندگان میں اہلیہ شمائلہ اور دو بچے چھوڑے تھے۔


متعلقہ خبریں