پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستیں کاز لسٹ سے ڈی لسٹ کردیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر کی بازیابی سے متعلق درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جائیں گی۔
وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے 12 اکتوبر 2026 یا اس کے بعد دائر آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت تمام رٹ پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
عدالت نے درخواست گزاروں کو متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اس حوالے سے اعلامیہ جاری کیا، جس کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ہو گیا۔
وفاقی حکومت نے صوبے میں سکیورٹی صورتحال خراب ہونے، دہشت گردی کے واقعات میں اضافے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں صوبائی حکومت کی ناکامی کو فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔
وفاق اور خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے درمیان امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر اختلافات بھی شدت اختیار کرچکے تھے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستیں بھی متاثر
پشاور ہائیکورٹ میں گورنر راج اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنے کے لیے متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔
درخواست گزاروں میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی، خیبرپختونخوا بار کونسل، محسن داوڑ، شاندانہ گلزار اور قیصر علی شاہ ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بعد ان درخواستوں کی سماعت بھی متاثر ہوئی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی بازیابی کے لیے بھی رجوع کیا گیا تھا۔
یہ درخواستیں بھی کاز لسٹ سے ڈی لسٹ کردی گئی ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کا 5 نومبر کا حکم
وفاقی آئینی عدالت نے 5 نومبر کو خیبرپختونخوا حکومت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ میں 12 اکتوبر یا اس کے بعد آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر مقدمات کی کارروائی معطل کردی تھی۔
دو رکنی بینچ چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ صوبے بھر میں آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعیناتی کے باعث آرٹیکل 245 کی شق 4 کے تحت متعلقہ کارروائیاں معطل رہیں گی۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو سات روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے، جس میں بتایا جائے گا کہ صوبے کے کن علاقوں میں مسلح افواج کی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعیناتی مزید ضروری نہیں رہی۔
عدالت نے قرار دیا کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے حکم میں تبدیلی پر غور کیا جاسکتا ہے۔
نئی درخواستیں بھی واپس کرنے کی ہدایت
پشاور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ 12 اکتوبر یا اس کے بعد دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جائیں گی۔
نئی درخواستیں بھی وصول کرنے کے بجائے درخواست گزاروں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس کیا جائے گا۔
فوج کی تعیناتی اور آرٹیکل 245
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پورے صوبے میں تعینات کرنے کا حکم دیا، جبکہ وزارت دفاع نے 12 اکتوبر کو اس حوالے سے آفس میمورنڈم جاری کیا۔
آرٹیکل 245 کی شق 3 کے مطابق جن علاقوں میں فوج سول انتظامیہ کی مدد کررہی ہو، وہاں ہائیکورٹ آرٹیکل 199 کے تحت اپنے آئینی اختیارات استعمال نہیں کرسکتی۔
اسی آرٹیکل کی شق 4 کے تحت متعلقہ مدت میں 12 اکتوبر یا اس کے بعد دائر مقدمات کی کارروائی معطل رہنے کی قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔



