امریکا نے ایران کے خلاف دباؤ مزید بڑھانے کے لیے نیا محاذ کھولنے کا اعلان کردیا، امریکی فوج نے ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے اسلحے، فوجی سازوسامان اور پابندیوں کے شکار مواد کی ترسیل روکنے کے لیے ٹاسک فورس آئرن گیٹ قائم کردی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے ہفتے کو بتایا کہ نئی ٹاسک فورس ایران کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور حساس ٹیکنالوجی کی درآمد روکنے کے لیے کام کرے گی۔ ٹاسک فورس کا ہیڈکوارٹر امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں ہوگا اور یہ مختلف امریکی سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرے گی۔
امریکا نے ایران کی بحری تجارت کی پہلی ناکہ بندی 13 اپریل 2026 کو شروع کی تھی، جو 18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان عارضی مفاہمت کے بعد ختم ہوگئی۔ تاہم 14 جولائی کو امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی۔
واشنگٹن کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات اور فوجی سازوسامان کی درآمد کو محدود کرنا ہے۔ اب 7 نومبر کو ٹاسک فورس آئرن گیٹ کے قیام کے ذریعے امریکا نے اس حکمت عملی کو زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کے خفیہ اسلحہ نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کی تیاری
امریکی حکام کے مطابق ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا مقصد صرف ہتھیاروں کی ترسیل روکنا نہیں بلکہ ایسی دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی (Dual-use Technology) کی نقل و حرکت محدود کرنا بھی ہے جو سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔
اس کے علاوہ ایران کے ان مالی ذرائع کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جنہیں واشنگٹن غیر قانونی آمدنی کے ذرائع قرار دیتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی حکومتی اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، اسلحہ ساز فیکٹریوں کی بحالی اور فوجی ذخائر دوبارہ بھرنے کی صلاحیت محدود ہوگی۔
رائٹرز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایران نے جنوری 2025 سے اب تک کم از کم 2 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان، دھماکا خیز مواد اور بھاری ٹرک درآمد کرنے کے لیے خفیہ نیٹ ورک قائم کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی اور مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف راستے استعمال کیے۔
ان راستوں میں روس سے بحیرہ کیسپین کے ذریعے مال بردار جہاز، وسطی ایشیا سے زمینی راستے اور چین سے کارگو طیاروں کے ذریعے سامان کی ترسیل شامل ہے۔
امریکی بحری ناکہ بندی سے تیل کی برآمدات متاثر
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں 25 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے خام تیل کی برآمدات روکی جاچکی ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی ٹاسک فورس محکمہ خزانہ، محکمہ خارجہ، محکمہ انصاف اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
ایران کے خلاف نئی ٹاسک فورس کا قیام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی حملوں سے ایران کی روایتی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ بحری ناکہ بندی نے تیل کی برآمدات کو بھی محدود کیا ہے، تاہم ایران اب بھی خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جارہا ہے۔
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انتخابی نتائج میں ری پبلکن پارٹی کی شکست کی ایک وجہ ایران جنگ کو قرار دیا اور اس تنازع کے فوائد پر بھی سوال اٹھایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کی دھمکیوں کے بعد خلیجی ممالک میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ تہران نے کسی نئی کارروائی کی صورت میں خلیجی خطے کے بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس جائزوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کرنے سے تہران کے مذاکراتی مؤقف میں بنیادی تبدیلی آنے یا ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان نہیں۔



