گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں پھر مذاکرات کی بات کریں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکج دیا ہے، جس پر وفاق کے شکر گزار ہیں، صوبے کا مقدمہ وفاق کے سامنے گالی گلوچ کے بجائے دلیل اور حقائق کے ساتھ پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، پشاور یونیورسٹی اور دیگر جامعات پر بھی کام کریں گے اور اس حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے رہیں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ شہریوں کی مشکلات کا احساس ہے، انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ پشاور انڈر پاس جلد مکمل کیا جائے جبکہ ناردرن بائی پاس کا بھی دورہ کریں گے اور اسے مقررہ وقت پر مکمل کرانے کی کوشش ہوگی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبے میں ہماری پہلی ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ جب تک ملک میں سزا اور جزا کا نظام قائم نہیں ہوگا، نظام درست نہیں ہوسکتا۔ کرپشن میں ملوث ہر شخص کو سزا ملنی چاہیے۔
نادرا افسر کے قتل کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ بظاہر یہ ذاتی زمین کے تنازع اور دشمنی کا معاملہ لگتا ہے۔
’مولانا فضل الرحمان اپنے بھائی اور بیٹے کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں‘
سیاسی مذاکرات سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کون سی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کریں؟ تحریک انصاف کی چار پانچ فرنچائز بن چکی ہیں، پہلے انہیں آپس میں متحد ہونا چاہیے، پھر ہمارے ساتھ بات کریں۔ مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن جب سیاستدانوں کی طرح بات ہوگی تو بات چیت بھی ہوگی۔
گورنر نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بھائی اور بیٹے کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں۔ ان کے بچے یورپ میں سیر سپاٹے کرتے ہیں جبکہ ہمارے بچوں کو افغانستان بھیجتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی میں کسی کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہوگا۔



