حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی برآمدات بڑھانے کے لیے بڑا اقدام کرتے ہوئے پاک ایکسِم بینک کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت 300 ارب روپے صرف اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے مختص کردیے ہیں۔
اس اقدام کے تحت مختص کی گئی پوری رقم اب صرف چھوٹے اور درمیانے درجے کے اہل برآمد کنندگان کو دستیاب ہوگی جبکہ اس سے قبل یہ رقم دیگر قرض لینے والے کاروباری شعبوں کے ساتھ مشترکہ طور پر مختص تھی۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایس ایم ای برآمد کنندگان کو سستی فنانسنگ کی فراہمی، ورکنگ کیپیٹل تک رسائی بہتر بنانا اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھانا ہے۔
اس کے علاوہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں برآمدات سے متعلق ٹیکسوں اور سپر ٹیکس میں کمی کے ذریعے بھی کاروباری اداروں کو اضافی ریلیف فراہم کیا جائے گا، جس سے ایس ایم ایز پر ٹیکسوں کا بوجھ کم ہونے کی توقع ہے۔
پاک ایکسِم بینک نے شریک بینکوں کو مختص فنڈز کے مؤثر استعمال اور اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان تک مالی سہولت کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
اس اقدام کے نتیجے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو اپنی پیداواری سرگرمیوں میں توسیع، برآمدی آرڈرز کی تکمیل، سرمایہ کاری اور ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکے گی۔
حکومتی اقدام کو وزیراعظم کے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے وژن اور وزیر خزانہ کی قیادت میں جاری اقتصادی اصلاحات کا اہم حصہ قرار دیا جارہا ہے۔
حکومت کے مطابق ایس ایم ایز کو مالی طور پر مضبوط بنانے سے ملکی برآمدات میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
چھوٹے کاروباری ادارے روزگار اور برآمدات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے صنعتی پیداوار، روزگار اور برآمدات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم انہیں بڑے کاروباری اداروں کے مقابلے میں بینکوں سے قرضوں اور سستے سرمائے تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
اس فیصلے کی اہمیت تین حوالوں سے اہم ہے، خصوصی مالی سہولت: 300 ارب روپے کی پوری مختص رقم اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے مخصوص ہوگی۔
پیداواری صلاحیت میں اضافہ: سستی فنانسنگ سے کاروباری ادارے خام مال، مشینری اور برآمدی آرڈرز کی تکمیل کے لیے سرمایہ حاصل کرسکیں گے۔
ٹیکس ریلیف: مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ٹیکسوں اور سپر ٹیکس میں کمی سے کاروباری لاگت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔



