امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں اہداف پر محدود فوجی حملے جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے جبکہ واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) کے مطابق ایران کے جزیرے قشم کے قریب دھماکوں کی اطلاعات پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے پہلے کارروائی پر بات کرنے سے گریز کیا، تاہم بعد میں حملوں کی تصدیق کردی۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ ہم محدود نوعیت کے حملے کرتے ہیں۔“
بعد ازاں فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ پہنچنے پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز نے ایران کی جانب سے قائم کی گئی فضائی دفاعی تنصیب کو چند ہی منٹوں میں تباہ کر دیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “انہوں (ایران) نے ایک چھوٹا سا طیارہ شکن دفاعی نظام بنایا تھا، جسے ہم نے تقریباً 15 منٹ میں، شاید پانچ منٹ میں تباہ کر دیا۔‘
‘امریکا ایران میں ’قابض‘ بھی ہو سکتا ہے’
ٹرمپ کے بیان سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے ہرمز میں اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرے قشم کے علاقے سوزا میں دو دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔
یہ تازہ کارروائی 2 نومبر کو امریکی فورسز کی جانب سے جزیرے پر کیے گئے حملے کے صرف چار روز بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام نے اس سے پہلے کے حملے کو دفاعی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں ایران کی زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی صلاحیت کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو خطے میں امریکی اثاثوں کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر ان کارروائیوں کی شدت کم ظاہر کرنے کی کوشش کی اور ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ یہ مکمل جنگ کی بحالی کا اشارہ ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن ایران میں ’قابض‘ کا کردار اختیار کر سکتا ہے۔ ان کے بقول ”ہم شاید صرف قابض ہیں۔ ہم قابض ہو سکتے ہیں۔“
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور وہاں سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکال رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز ہمارے کنٹرول میں ہے۔ ہم اب اس گزرگاہ سے تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ تیل نکال رہے ہیں۔‘
ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بحری گزرگاہ پر تزویراتی اختیار اب بھی تہران کے پاس ہے اور وہ اپنی شرائط پوری ہونے تک اسے دوبارہ نہیں کھولے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے فوجی حملوں کے باوجود ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ بھی کیا۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ”ہم اس وقت ان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’کافی پیش رفت‘ ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات یا ممکنہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
امریکا کو حوثی حملوں کے خطرے سے خبردار
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک سکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو حوثی گروپ کے مسلح حملوں اور امریکی حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی مبینہ ایرانی کوششوں کے خطرے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی۔
محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ”مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہری ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے مسلح حملوں اور خطے میں امریکی حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی ایرانی کوششوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر زیادہ چوکس رہیں۔“
محکمہ خارجہ نے مسافروں کو ممکنہ طور پر پروازیں منسوخ ہونے، فضائی حدود بند ہونے اور دیگر سفری رکاوٹوں سے بھی خبردار کیا، تاہم مبینہ خطرات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکا کی یہ تازہ وارننگ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی نئی لہر کے بعد سامنے آئی ہے۔ جمعہ 6 نومبر کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے نجران کے قریب دو بیلسٹک میزائل اور مکہ کے قریب ایک ڈرون مار گرایا تھا۔
امریکی سفارتی مشنز نے سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثیوں کے ماضی کے حملوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور سفری نظام متاثر ہوا تھا۔
واشنگٹن نے خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور ایران یا اس کے اتحادی گروپ مشرق وسطیٰ سے باہر بھی امریکی مفادات، کاروباری اداروں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔



