الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ میں ضمنی انتخاب کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کی جانب سے مبینہ طور پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
این اے 77 میں ضمنی انتخاب کل 8 نومبر کو ہو گا جس میں 11 امیدوارآمنے سامنے ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے راشد بشیر ورک ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قاضی ابراہیم گجر، پاکستان نظریاتی پارٹی کے طیب محمود کے علاوہ آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔حلقے کے 5 لاکھ 18 ہزار 620 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 2 لاکھ 77 ہزار 480 مرد ووٹرز جبکہ 2 لاکھ 41 ہزار 140 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر عطا تارڑ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے حلقہ این اے 77 کا دورہ کیا اور وہاں منعقدہ ایک اجتماع میں بھی شرکت کی۔
الیکشن کمیشن نے معاملے سے متعلق ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر (ڈی ایم او) اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (ڈی آر او) سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق معاملے کے حتمی فیصلے تک این اے 77 گوجرانوالہ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ روکا بھی جا سکتا ہے۔
پریس ریلیز
7 نومبر 2026الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 77 گوجرانوالہ کے ضمنی انتخاب کے دوران وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس لے لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے حلقے کا دورہ کیا (1/2)
— Election Commission of Pakistan (OFFICIAL)🇵🇰 (@ECP_Pakistan) November 7, 2026
خیال رہے الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز این اے 77 گوجرانوالہ-I اور حلقہ پی پی 203 ساہیوال-VI میں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں سے کہا تھا کہ وہ 6 اور 7 نومبر کی درمیانی شب تک انتخابی مہم ختم کر دیں۔
الیکشن کمیشن نے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ کے اختتام کے بعد آنے والی نصف شب تک 48 گھنٹوں کے دوران متعلقہ حلقوں میں کوئی شخص عوامی اجتماع منعقد، اس میں شرکت یا کسی جلوس کی تشہیر اور اس میں شرکت نہیں کر سکے گا۔
کمیشن کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو دو سال تک قید، ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔



