وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت کوئی بھی گاڑی بنانے والا ادارہ صارفین سے گاڑی کی بکنگ کے وقت 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کرسکے گا جبکہ گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے 45 اضافی عالمی اسٹینڈرڈز شامل کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور مشیر وزیراعظم ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت آٹو سیکٹر کی برآمدات کو موجودہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ عوام کو سستی گاڑیاں فراہم کی جائیں۔ نئی آٹو پالیسی سے گاڑیوں کی قیمتوں اور مینوفیکچرنگ اخراجات میں بتدریج کمی آئے گی، جس سے لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سمیت تمام طبقوں کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کے معیار اور حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے 45 اضافی عالمی اسٹینڈرڈز شامل کیے گئے ہیں۔ ان معیارات پر عمل درآمد سے پاکستانی گاڑیوں کا شمار بہتر معیار کی گاڑیوں میں ہوگا۔ ہماری گاڑیاں جب حفاظتی معیارات پر پوری اتریں گی تو انہیں محفوظ تصور کیا جائے گا۔
ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سال سے آٹو پالیسیاں بنائی جارہی تھیں، تاہم اس عرصے میں گاڑیوں کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا۔ موجودہ حکومت نے برآمدات پر مبنی پالیسی کی تیاری کے لیے طویل مشاورت اور محنت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی سے نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی بلکہ گاڑیاں بنانے کے اخراجات بھی کم ہوں گے۔ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت آٹو انڈسٹری میں مسابقت بڑھے گی اور مقامی صنعت کو عالمی منڈیوں میں مقابلے کے قابل بنایا جائے گا۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور آٹو انڈسٹری لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت گاڑیاں برآمد کرنے والے اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ہارون اختر خان نے کہا کہ خطے کی صورتحال اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے باعث الیکٹرک وہیکلز کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے، حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کردی گئی ہے جبکہ نئی پالیسی کے تحت گاڑیوں کے معیار اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے اضافی عالمی اسٹینڈرڈز متعارف کرائے جارہے ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے ذریعے آٹو سیکٹر میں مسابقت، سرمایہ کاری، مقامی پیداوار اور برآمدات کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد ایسی آٹو انڈسٹری تشکیل دینا ہے جو ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکے۔
مقامی آٹو انڈسٹری کو دہائیوں تحفظ دیا مگر عوام کو جدید گاڑیاں نہ مل سکیں، وزیر اطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہائیوں تک مقامی آٹو انڈسٹری کو تحفظ دینے کے لیے گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹیز بلند رکھی گئیں، تاہم اس کے باوجود مینوفیکچررز جدت، معیار اور اضافی سہولتیں فراہم کرنے میں مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔
نئی آٹو پالیسی کے حوالے سے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پالیسی تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت، تکنیکی اعداد و شمار کے تجزیے اور مختلف ممالک کے بین الاقوامی ماڈلز کا تقابلی جائزہ لینے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک مقامی آٹو انڈسٹری کو تحفظ فراہم کیا گیا، درآمدی ڈیوٹیز بلند رکھی گئیں اور توقع تھی کہ اس کے نتیجے میں مقامی مینوفیکچررز گاڑیوں کا معیار بہتر بنائیں گے، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائیں گے اور مقامی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کریں گے، لیکن عام صارفین کو دیگر ممالک کے مقابلے میں مطلوبہ سہولتیں اور جدید فیچرز فراہم نہیں کیے جاسکے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی توجہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس خاندانوں کو سستی ٹرانسپورٹ کی فراہمی پر ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور اسکوٹرز کا استعمال بڑھ رہا ہے، خصوصاً خواتین اسکولوں، کالجوں اور دفاتر آنے جانے کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور اسکوٹرز سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز کا فروغ ماحولیاتی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے ضروری ہے، اس سے پاکستان کو کاربن کریڈٹس حاصل کرنے کے مواقع بھی میسر آسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور ملک کا درآمدی بل گھٹانے میں مدد ملے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی اخراجات کا بوجھ براہ راست عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ درآمدی بل میں کمی سے حکومت کو وسائل صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور عوامی سہولتوں پر خرچ کرنے کا موقع ملے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی کی کامیابی کے لیے مقامی پیداوار انتہائی ضروری ہے۔ گاڑیاں پاکستان میں تیار ہونی چاہئیں اور انہیں عالمی منڈیوں میں برآمد کیا جانا چاہیے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ملکی معیشت مضبوط ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے تحت ایک ہزار سی سی سے کم انجن کی گنجائش والی پیٹرول گاڑیوں، بشمول 800 سی سی گاڑیوں، پر اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
نئی آٹو پالیسی میں کیا اہم ہے؟
پاکستان کی نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی گاڑیوں کی صنعت کو تحفظ دینے کے بجائے اسے مسابقت، معیار اور برآمدات کی بنیاد پر ترقی دینا ہے۔
ایڈوانس کی حد: گاڑیوں کی بکنگ پر مینوفیکچررز کے لیے زیادہ سے زیادہ 20 فیصد ایڈوانس کی حد تجویز کی گئی ہے۔
نئی آٹو پالیسی میں پاکستان کی گاڑیوں کی صنعت کو برآمدات، مقامی پیداوار، مسابقت اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔
پانچ سال کے دوران گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی مجموعی برآمدات کا ہدف تقریباً 6 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔ 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔
گاڑیوں کی حفاظت اور معیار بہتر بنانے کے لیے 45 اضافی عالمی معیارات شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ گاڑیوں کی بکنگ پر مینوفیکچررز کی جانب سے وصول کیے جانے والے ایڈوانس کو 20 فیصد تک محدود کرنے کی تجویز ہے۔
نئی پالیسی میں پہلی مرتبہ آٹو مینوفیکچررز کی مراعات کو برآمدی کارکردگی سے منسلک کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کمپنیوں کو برآمدی اہداف دیے جائیں گے اور ان اہداف کی تکمیل پر مراعات جبکہ ناکامی کی صورت میں جرمانوں کی تجویز ہے۔


