سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے آنکھوں کی خرابی اور بینائی متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر مکمل میڈیکل ریکارڈ کے حصول اور فوری طبی علاج کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ انہوں نے عدالت سے اپنی پسند کے ڈاکٹروں سے ذاتی خرچ پر علاج کی اجازت کی استدعا بھی کی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں بشریٰ بی بی کی آنکھوں کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں زیر التوا اپیلوں کے سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں اڈیالہ جیل حکام سے ان کی صحت سے متعلق تازہ اور جامع میڈیکل رپورٹ طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
جنوری 2025 میں احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس (القادر ٹرسٹ کیس) میں عمران خان کو 14 سال جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ دسمبر 2025 میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بھی بشریٰ بی بی کو 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ مقدمہ سعودی ولی عہد کی جانب سے مئی 2021 میں عمران خان کو تحفے میں دیے گئے قیمتی زیورات کے سیٹ کی خریداری سے متعلق تھا۔
بشریٰ بی بی کی بینائی کتنی متاثر ہوئی؟ حلف نامے میں اہم انکشافات
بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک حلف نامہ جمع کرایا ہے، جس میں اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے حالیہ ملاقات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
حلف نامے کے مطابق جیل حکام نے 31 اکتوبر کو انہیں آگاہ کیا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات 2 نومبر کو سہ پہر ساڑھے تین بجے مقرر ہے۔ ملاقات شام 4 بجے شروع ہوئی اور تقریباً 40 منٹ جاری رہی۔
بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق بشریٰ بی بی نے انتہائی گہرے رنگ کی عینک پہن رکھی تھی، تاہم عمران خان اور وکیل کے کہنے پر عینک اتارنے کے بعد ان کی آنکھوں کی حالت انتہائی تشویشناک دکھائی دی۔
سورج اور مصنوعی روشنی برداشت کرنا مشکل ہے، حلف نامہ
حلف نامے میں بتایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ سورج کی روشنی اور مصنوعی روشنی دونوں برداشت نہیں کرسکتیں اور حفاظتی عینک کے بغیر آنکھیں کھولنا بھی مشکل ہے۔
وکیل کے مطابق بشریٰ بی بی کی بینائی میں نمایاں کمی محسوس ہوئی اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ ان کی بصارت شدید متاثر ہوچکی ہے۔ حلف نامے کے مطابق عمران خان بھی اپنی اہلیہ کی آنکھوں کی خراب ہوتی حالت پر واضح طور پر فکرمند دکھائی دیے۔
بشریٰ بی بی کو میچور موتیا بند کی تشخیص، دوسری سرجری کا مشورہ
درخواست اور حلف نامے کے مطابق بشریٰ بی بی نے بتایا کہ ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے انہیں میچور کیٹاریکٹ (Mature Cataract) کی تشخیص بتائی ہے اور تقریباً 15 نومبر کو آنکھ کی دوسری سرجری کا مشورہ دیا ہے۔
بشریٰ بی بی کی پہلی آنکھ کی سرجری 18 اپریل کو ہوئی تھی، جس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
جیل میں طبی سہولتوں اور صفائی کے معیار پر تحفظات
حلف نامے کے مطابق بشریٰ بی بی نے جیل میں صفائی کے انتظامات اور فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے اپنے وکیل سے درخواست کی کہ ان کا طبی معائنہ اور علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کے ذریعے کرانے کا معاملہ عدالت میں اٹھایا جائے، جس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ یہ معاملہ عدالت کے سامنے رکھیں گے۔
بشریٰ بی بی کی متفرق درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اڈیالہ جیل حکام کو ان کی صحت سے متعلق مکمل میڈیکل ریکارڈ، تشخیص، علاج اور دیگر طبی دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں فوری طور پر ماہر امراض چشم سے معائنہ کرانے، ذاتی ڈاکٹروں سے اپنی نگرانی میں علاج کی اجازت دینے اور ضروری طبی سہولتیں فراہم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ علاج میں تاخیر سے ان کی بینائی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے اسلام آباد ہائیکورٹ فوری مداخلت کرتے ہوئے مناسب طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے۔
بشریٰ بی بی کی بینائی صرف 30 فیصد رہ گئی، زلفی بخاری
پاکستان تحریک انصاف کے سید زلفی بخاری نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی بینائی صرف 30 فیصد رہ گئی ہے جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان کا بلڈ پریشر بھی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنوں کو فوری اور مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
The brave, brave “men” of this illegitimate regime are doing everything they can to hurt the women of Khan Saab’s family. Bushra Bibi can barely open her eyes (30%) and is forced to wear dark glasses constantly. She urgently requires surgery but is refusing to undergo another procedure in prison after her previous one went horribly wrong. Meanwhile, Khan Saab’s sister @DrUzma_KhanPK is suffering from rapidly deteriorating health and requires urgent, continuous medical attention. His wife and all three sisters are now in prison, and must be released immediately.
Imran Khan himself is suffering from dangerously elevated blood pressure, which, God forbid, could lead to something far more serious at any moment. These so-called brave men of the regime really need to put their displays of “manhood” aside, along with their politics of vengeance and cruelty, and allow this family immediate access to proper medical care in a hospital, their most basic human rights and, of course, a free and fair trial.
Surely, even political persecution must have some limits.— Sayed Z Bukhari (@sayedzbukhari) November 7, 2026
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، وہ بمشکل آنکھیں کھول سکتی ہیں اور انہیں مسلسل گہرے رنگ کی عینک پہننا پڑتی ہے۔
بیان کے مطابق بشریٰ بی بی کو فوری سرجری کی ضرورت ہے، تاہم وہ جیل میں دوبارہ آپریشن کرانے سے انکار کررہی ہیں کیونکہ ان کے مطابق پہلے آپریشن کا تجربہ انتہائی خراب رہا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اور انتقامی سیاست کو ایک طرف رکھ کر عمران خان کے خاندان کو بنیادی انسانی حقوق، مناسب طبی سہولتوں اور آزادانہ و منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق دیا جانا چاہیے۔



