وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ عوام کی جانوں، معیشت اور خیبر پختونخوا کو محفوظ رکھنے کے پیش نظر کیا گیا۔ گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبر پختونخوا کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر مشتمل کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے، تاہم مطلوبہ پیشرفت نہ ہو سکی۔ جس پر صوبے میں پیش نظر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں، سوال یہ ہے کہ وہاں کتنے سیف سٹی منصوبے بنائے گئے؟ اور محکمہ انسداد دہشتگردی کو کتنا مضبوط کیا گیا؟
انہوں نے کہا کہ ایک جماعت نے 13 سال حکومت کی بڑے بڑے دعوے کیے گئے کہ اتنے ڈیمز ، اسپتال اور اسکول بنائیں گے لیکن صوبے کیلیے کچھ نہیں کیا۔ صوبے میں پولیس کی 5 ہزار آسامیاں خالی ہیں، صوبے میں عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی۔ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل کو نظرانداز کیا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا۔ عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ 2018 میں پاکستان سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو گیا تھا اور نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور ریاستی اداروں نے مل کر اس کامیابی میں کردار ادا کیا۔
’معصوم بچوں کی شہادت کا انتہائی دردناک واقعہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے‘
انہوں نے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی شہادت کا انتہائی دردناک واقعہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے اور یہ سانحہ تاریخ میں ایک المناک باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشتگردوں کو واپس لا کر بسایا گیا، جس کے نتیجے میں ملک میں دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ حکومت نے دہشتگردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے، اہلکاروں کی تربیت اور انسداد دہشتگردی کے اداروں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا، 2013 کے انتخابات کے بعد نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔
’ڈھائی سال کے دوران ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی‘
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی۔ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے باعث چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم وہ اپریل 2015 میں پاکستان آئے اور اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی محنت کے نتیجے میں ملک سے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا۔ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ملک کی ترقی، معاشی استحکام اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی حالات اور خلیج میں جاری جنگ کے باعث توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے مشکلات کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔ موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے متعارف کرائی گئی اسکیم سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوچکے ہیں، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
’حکومت نہیں چاہتی ملک دوبارہ معاشی بحران اور ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہو‘
شہباز شریف نے کہا کہ غریب آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے اور معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک دوبارہ معاشی بحران اور ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہو۔
شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ صوبے میں تعلیم، صحت، امن و امان اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔



