وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے معاملے پر اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، اس حوالے سے فیصلہ ہو چکا ہے، تاہم دیگر معاملات پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ بات چیت کے لیے حکومت تیار ہے۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام ”ہم دیکھیں گے“ میں دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدہ تقریباً تیار تھا اور صرف دستخط ہونا باقی تھے، لیکن دہشت گردی کی مذمت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کس سے کرنا چاہتی ہے اور اسے اپنے وعدوں پر قائم رہنا ہوگا۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے بیانات میں یکسانیت نہیں اور جماعت کے اندرونی اختلافات کو سمجھنا مشکل ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے اور اس معاملے پر مذاکرات کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے خلاف عوام کی جانب سے کوئی بڑا احتجاج سامنے نہیں آیا اور حکومت نے ایک اچھا اور دیانت دار انتظامی سیٹ اپ قائم کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایک معاہدہ تیار کرلیا گیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کی بات تسلیم نہیں کی۔ ان کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کا نام معاہدے میں شامل کرنے اور دہشت گردی کی واضح مذمت کے معاملے پر اختلاف پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں اور بے گناہ شہریوں کو شہید کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے پیروکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی مذمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر معاہدے پر دستخط ہوجاتے تو ممکن تھا کہ عمران خان کی بہنوں کو بھی ریلیف مل جاتا۔
خیبرپختونخوا میں ساڑھے 13 سالہ کارکردگی پر تنقید
عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی طویل حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 13 سال کے دوران عوامی خدمات، صحت اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں خاطرخواہ کام نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کوہاٹ میں نواز شریف کے دور میں ٹنل تعمیر کی گئی لیکن اس کے بعد علاقے میں نمایاں ترقی نظر نہیں آئی۔ ان کے مطابق صوبے میں معیاری اسپتالوں اور اچھی جامعات کے قیام پر بھی مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ عوام کو انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے کرنا چاہیے، کیونکہ عوامی حمایت اور جواز کے بغیر کوئی حکومت مؤثر انداز میں عوام سے جڑی نہیں رہ سکتی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سابقہ پالیسیوں پر سوالات
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2013 سے 2017 کے دوران وفاقی حکومت اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کے دور حکومت میں تقریباً 25 ہزار دہشت گردوں کو واپس لایا گیا، جس کے بعد جیلیں کھولی گئیں اور ان کا استقبال کیا گیا۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کا بہتر نظام بھی مددگار ثابت ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق اس نظام کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاسکتی تھی۔
انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امیر مقام پر بھی متعدد حملے ہوچکے ہیں اور گزشتہ انتخابات میں دوسری جماعتیں بھی دہشت گرد حملوں سے متاثر ہوئیں۔
عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں پر گفتگو
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا اپنی جماعت پر سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے اور وہ جو ہدایت دیں گے، جماعت اس پر عمل کرے گی۔ ان کے مطابق عمران خان کی صحت سے متعلق مختلف بیانات سامنے آتے رہے ہیں، جس سے صورت حال کے بارے میں یکساں مؤقف سامنے نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ عظمیٰ خان کو ملاقات کی اجازت دی گئی تھی تاہم جیل میں ملاقاتوں کو اداروں یا ملکی سلامتی کے خلاف بیانات دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کے بعد سامنے آنے والے بعض بیانات کو بھارت پاکستان کے خلاف استعمال کرسکتا ہے۔
خواتین کو ہراساں کرنے کی مذمت
وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک خاتون کو اسکوٹی پر جاتے ہوئے تھپڑ مارنے اور گالیاں دینے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا اور ان پر آوازیں کسنا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے پر ایک خاتون سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا اور ان کا ردعمل اسی جذبے کی عکاسی کرتا تھا۔ ان کے مطابق کسی بھی حکومت کے لیے تشدد کو فروغ دینا درست نہیں۔
ایس سی او کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ زیر غور
عطا تارڑ نے بھارت میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس میں پاکستان کے وزیر ثقافت کی شرکت کے حوالے سے کہا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر دفتر خارجہ میں اجلاس ہوگا اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت دیگر سیاسی معاملات پر پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم دہشت گردی کی مذمت، ملکی سلامتی اور خیبرپختونخوا میں حکومتی انتظام سے متعلق معاملات پر حکومت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔



