امریکا نے یمنی حوثیوں کے حملوں کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے شہریوں کیلیے نیا سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
یہ ایک ہفتے کے دوران امریکی حکام کی جانب سے جاری کیا جانے والا دوسرا الرٹ ہے، ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہے، جبکہ سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں میں دوبارہ شدت آنے سے علاقائی تنازع مزید پھیلنے اور فضائی سلامتی کو لاحق خطرات بڑھنے کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق امریکی مشن برائے متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیے گئے سکیورٹی الرٹ میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سکیورٹی الرٹ میں شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور دیگر سفری مشکلات کے لیے بھی تیار رہیں۔
Middle East: Americans currently in the Middle East should exercise heightened vigilance due to the increased threat of armed attacks by Iranian-supported Houthis and Iranian efforts to target U.S. government officials in the region. Be aware of potential flight cancellations, airspace closures, and travel disruptions. Read the latest country-specific alerts at https://t.co/fGFPeb6HW3
— US Mission to UAE (@USAinUAE) November 7, 2026
خیال رہے چند روز قبل امریکا نے سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہلخانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا تھا کہ خلیجی خطے کی دیگر ریاستوں میں قائم امریکی سفارتی مشنز سے بھی عملے کے اہلخانہ کو واپس بلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں شہری اہداف اور اہم تنصیبات پر حملوں میں اضافے کے باعث یہ اقدام کیا گیا۔ حوثیوں کی کارروائیوں میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے علاوہ فضائی سفر میں بھی شدید خلل پڑ رہا ہے۔
خیال رہے یمن کی لڑائی میں حالیہ شدت کی وجہ سے خطے میں جاری تنازع میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں عالمی توانائی کی تجارت متاثر ہوئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک کی معیشتوں کو بھی دباؤ کا سامنا ہے۔



