خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنی مشاورتی کونسل کے ارکان کو اضافی محکموں کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں، جس کے بعد صوبے میں 11 مشیروں کے محکموں میں توسیع کر دی گئی ہے۔
صوبائی محکمہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف مشیروں کو ان کے موجودہ محکموں کے ساتھ اضافی وزارتوں اور شعبوں کا چارج بھی دے دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اطلاعات کا قلمدان رکھنے والی ثمر ہارون بلور کو ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکموں کی اضافی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئی ہیں۔
محکمہ داخلہ کے نگران کفایت اللہ کو خوراک اور خواتین کو بااختیار بنانے کے محکمے بھی دے دیے گئے ہیں جبکہ محکمہ خزانہ کے نگران طارق محمود پاشا کو موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کی ذمہ داریاں بھی تفویض کی گئی ہیں۔
قانون، تعلیم اور صحت کے محکموں میں بھی اضافی ذمہ داریاں
قانون اور پارلیمانی امور کے نگران عامر جاوید کو محنت اور بین الصوبائی رابطہ کاری کے محکموں کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
تعلیم کے محکمے کے نگران ڈاکٹر سید امیر عبداللہ اب سماجی بہبود کا شعبہ بھی دیکھیں گے، جبکہ صحت کی ذمہ داریاں رکھنے والی نگار جوہر کو بہبود آبادی کا محکمہ بھی سونپ دیا گیا ہے۔
معدنیات و کان کنی کے نگران ڈاکٹر سرفراز علی کو ثقافت، سیاحت اور کھیلوں کے محکموں کی اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔صنعت و تجارت کے نگران ڈاکٹر محمد ارشاد اب آبپاشی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکمے بھی دیکھیں گے۔
مواصلات کے نگران آصف رفیق کو زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔اوقاف کے نگران مولانا طیب قریشی کو زکوٰۃ و عشر کے محکمے کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے، جبکہ توانائی کے نگران عثمان سیف اللہ خان کو سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکموں کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
گورنر راج کے بعد مشاورتی کونسل قائم کی گئی تھی
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کی تھی۔
اس کے علاوہ دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ انتظامی سیکرٹریٹ بھی قائم کیا گیا تھا۔
مشیروں کو اضافی محکمے تفویض کرنے کے بعد ایڈوائزری کونسل کے ارکان کی انتظامی ذمہ داریوں کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔



