ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے امریکی قیادت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جنگ اور انتخابات دونوں ہار چکا ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شکست تسلیم کرچکے ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی قیادت کو جنگ اور سیاسی محاذ دونوں پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خود جنگ کو ری پبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی وجہ قرار دے چکے ہیں۔
ٹرمپ کی جماعت کو مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں بھی امریکا کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔
مارکو روبیو کے عہدے سے جانے اور پیٹ ہیگستھ کی برطرفی کا امکان
محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو عہدہ چھوڑنے کی تیاری کررہے ہیں جبکہ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی برطرفی کا بھی امکان ہے۔
انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب سوشل میڈیا انفلوئنسر بن چکے ہیں۔محسن رضائی نے سوال اٹھایا کہ واشنگٹن میں یہ پیغام آخر کس تک پہنچانا چاہیے؟
Iran’s Supreme National Security Council Secretary Mohsen Rezaee:
You lost the war and the election. Vance has conceded, Rubio is heading for the exit, Hegseth is about to be fired, and the CENTCOM commander is now a podcaster!
So, who exactly in Washington do we need to get this message across to? Start a war, and you’ll face a devastating response.
— Tabz (@TabzLIVE) November 7, 2026
ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کی تو اسے تباہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور امریکا کو جنگ کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
امریکی انتخابات میں شکست اور ایران جنگ کا تعلق
محسن رضائی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 4 نومبر کو سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ری پبلکن پارٹی کی شکست کی وجہ ایران جنگ ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جنگ کے باعث ووٹرز میں ناراضی بڑھی اور 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے متعدد افراد نے اس مرتبہ ڈیموکریٹس کی حمایت کی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور اعلیٰ فوجی قیادت کے مستقبل سے متعلق بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں تاہم مارکو روبیو کے مستعفی ہونے یا پیٹ ہیگستھ کی برطرفی کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
امریکی انتخابات میں شکست کے بعد سیاسی دباؤ
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو شکست کے بعد ایران جنگ واشنگٹن میں سیاسی بحث کا بڑا موضوع بن گئی ہے۔
3 نومبر 2026 کو امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔
4 نومبر کو نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ری پبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ایران جنگ ہے۔ ان کے مطابق بہت سے ووٹرز نے جنگ ختم کرنے کے مطالبے پر ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔
5 نومبر کو واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ انتخابی شکست کے بعد پیٹ ہیگستھ اور اعلیٰ فوجی قیادت کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں تاہم ٹرمپ نے ہیگستھ کو عہدے پر برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ایکسِیوس کی چھ نومبر کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس ایران کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں، انہوں نے محسن رضائی کو براہ راست مذاکرات کی تجویز بھی بھیجی ہے۔
محسن رضائی کی اہمیت کیوں بڑھ گئی؟
محسن رضائی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ہیں اور سابق ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے انہیں براہ راست خط بھیجنے اور مذاکرات کی پیشکش کرنے کو ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں ان کے اہم کردار کی علامت قرار دیا جارہا ہے۔



