چین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر انجینئرنگ کو آسان بنانے اور ڈویلپرز کا وقت بچانے کے لیے اپنا نیا اے آئی ٹول ’سپر ایجنٹ‘ متعارف کرا دیا، جو پروگرامنگ کے دوران مسائل کی خودکار نشاندہی اور ان کے حل میں مدد فراہم کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے گلوبل ٹائمز کے مطابق چین کا نیا اے آئی ایجنٹ امریکی کمپنیوں انتھروپک کے ’کلاڈ کوڈ‘ اور اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عام اے آئی چیٹ بوٹس کے برعکس سپر ایجنٹ کو خودکار اور فعال انداز میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ گروپ چیٹس میں ہونے والی گفتگو کا مشاہدہ کرکے پروگرامنگ سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرسکتا ہے اور صارف کی جانب سے مدد طلب کیے بغیر ہی ممکنہ حل تجویز کرسکتا ہے۔
ڈیپ سیک کی جانب سے جاری کردہ صارف رہنما دستاویز کے مطابق اس ٹول کا بنیادی مقصد کم سے کم انسانی ہدایات کے ساتھ زیادہ سے زیادہ معاونت فراہم کرنا ہے۔
Chinese AI company DeepSeek has introduced Super Agent, a tool designed to simplify software engineering and reduce the time developers spend writing code, according to the report.
Unlike conventional chatbots, the tool is designed to work proactively. It can reportedly follow group-chat discussions, identify programming problems and suggest solutions before users request help.
A user guide published on GitHub describes its aim as providing assistance with minimal human instructions.
The report says Super Agent has been introduced through WeChat, positioning it as a competitor to coding agents from US AI companies.
#ThePublicPurview #TPP #DeepSeek #ArtificialIntelligence #SoftwareDevelopment
— The Public Purview (TPP) (@publicpurviewpk) November 2, 2026
کمپنی نے سپر ایجنٹ کو چینی میسجنگ پلیٹ فارم وی چیٹ کے ذریعے متعارف کرایا ہے، جس سے کوڈنگ کے شعبے میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ ڈیپ سیک اپنے کم لاگت والے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے باعث پہلے ہی عالمی سطح پر توجہ حاصل کرچکی ہے، جبکہ کمپنی اے آئی کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاری بھی حاصل کر رہی ہے۔



