امریکی ریاست واشنگٹن میں سافٹ ویئر انجینئر لڑکی اوپن اے آئی کی طبی رہنمائی پر عمل کرنے سے انتقال کر گئی، والدین نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ڈیلی میل کے مطابق ایمیزون کی 31 سالہ سافٹ ویئر انجینئر بووین وان کے والدین نے الزام عائد کیا کہ اوپن اے آئی نے ان کی بیٹی مرگی کی دوا بتدرین کم کر کے بند کرنے کی رہنمائی فراہم کی اور یہ منصوبہ ڈاکٹروں سے بھی چھپانے کی ترغیب دی۔
بووین وان کے والدین نے اپنی بیٹی کی ہلاکت پر اوپن اے آئی اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹ مین کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔ خاتون کے والد چُن وان نے کہا کہ بیٹی کی موت کے بعد اس کی چیٹ جی پی ٹی ایپ کھولی تو ایسے منصوبے ملے جن کے تحت چند ہفتوں کے اندر اس کی لیموٹریجین دوا کی خوراک 400 ملی گرام سے کم کرکے صفر تک لانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔
سان فرانسسکو کی سپیریئر کورٹ میں 27 اکتوبر کو دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق بووین وان فروری میں واشنگٹن کے شہر سیئٹل میں اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئیں۔ وہ مرگی کے دوروں کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ 400 ملی گرام لیموٹریجین استعمال کرتی تھیں، تاہم مبینہ طور پر تقریباً 25 روز کے دوران دوا کی مقدار انتہائی کم کر دی گئی تھی۔
کنگ کاؤنٹی کے میڈیکل آفیسر نے موت کی وجہ مرگی کے باعث اچانک غیر متوقع موت قرار دی۔ رپورٹ کے مطابق ان کے جسم میں دوا کی سطح مؤثر حد کی نچلی سطح کے تقریباً پانچویں حصے تک گر چکی تھی۔
دوا کی مقدار کم کرنے کے لیے رہنمائی لینے کا الزام
مقدمے کے مطابق بووین وان نے مئی 2025 میں اپنی ادویات کے بارے میں چیٹ جی پی ٹی سے مشورے لینا شروع کیے تھے۔ جنوری 2026 میں انہوں نے دوا کی مقدار کم کرنے پر غور کیا۔ اس دوران ایمیزون نے نومبر میں انہیں ملازمت سے فارغ کردیا تھا اور ان کے ورک پرمٹ کی مدت بھی ختم ہونے کے قریب تھی۔
والدین کے مطابق بووین وان کو خدشہ تھا کہ دوا ان کی گفتگو کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جو ان کی ملازمت کے لیے انٹریوز پر اثر انداز ہو سکتی تھی۔
Engineer dies after befriending ChatGPT bot https://t.co/U9i6potZhZ
— Daily Mail (@DailyMail) October 29, 2026
مقدمے میں کہا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی نے ایسے شیڈول تیار کیے جن کے تحت چند ہفتوں میں دوا کی مقدار تقریباً صفر تک پہنچ سکتی تھی۔ اور ہلاک ہونے والی لڑکی نے سوال کیا کہ آیا کم مقدار میں دوا لینے سے گرین کارڈ کے طبی معائنے میں ان کی صورتحال بہتر نظر آئے گی، جس پر چیٹ بوٹ نے ان کی بات سے اتفاق کیا تھا۔
ڈاکٹروں سے مشورہ چھپانے کی ترغیب دینے کا الزام
مقدمے میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اوپن اے آئی نے بووین وان کو ان کے ڈاکٹروں سے دور کیا اور دوا کم کرنے کے منصوبے کو چھپانے کی ترغیب دی۔ الزام ہے کہ اوپن اے آئی نے ڈاکٹروں کی احتیاط کو مریضہ کے مفاد کے بجائے خطرات سے بچنے کی کوشش قرار دیا اور خون کے اس ٹیسٹ سے انکار کرنے کی رہنمائی کی جس سے جسم میں دوا کی گرتی ہوئی سطح کا پتا چل سکتا تھا۔
ان کا علاج کرنے والے یونیورسٹی آف واشنگٹن کے مرگی کے ماہر ڈاکٹر نکولس پولوس نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایسی دوا کبھی بند نہیں کرتے جو مریض کے لیے مؤثر ثابت ہو رہی ہو۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ دوا کی مقدار کم کرنے کے دوران بووین وان نے الجھن اور دوروں جیسی علامات کے بارے میں متعدد مرتبہ اوپن اے آئی سے بات کی۔ اور ایک موقع پر تشویش ظاہر کرنے پر اوپن اے آئی نے انہیں کہا کہ پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں۔ ان کا آخری پیغام 11 فروری کو بھیجا گیا، جبکہ ایک دوست نے 14 فروری کو ان کی لاش برآمد کی۔
اوپن اے آئی کے حفاظتی اصولوں پر سوالات
مقدمے میں اوپن اے آئی کے اپنے حفاظتی اصولوں پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ والدین کا مؤقف ہے کہ طبی مشوروں، خصوصاً زندگی کے لیے اہم ادویات میں تبدیلی سے متعلق رہنمائی، پر سخت پابندیاں ہونی چاہیے تھیں۔
بووین وان چیٹ جی پی ٹی کا جی پی ٹی فور او ماڈل استعمال کر رہی تھیں، جسے اوپن اے آئی نے 13 فروری کو چیٹ جی پی ٹی سے ریٹائر کردیا تھا۔ یہ تاریخ ان کی موت کے ایک روز بعد کی ہے۔
اوپن اے آئی کا ردعمل
اوپن اے آئی کے ترجمان ڈریو پوسیٹری نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بووین وان نے چیٹ جی پی ٹی کا ایسا ورژن استعمال کیا جو اب دستیاب نہیں ہے۔ جبکہ نئے ماڈلز میں یہ صلاحیت بہتر ہوئی ہے کہ وہ ایسے حالات کو پہچان سکیں جن میں فوری توجہ یا مدد کی ضرورت ہو۔
اس سے قبل رواں سال اپریل میں لبنانی خاندان نے اپنے 15 سالہ بیٹے کی خودکشی کا الزام چیٹ جی پی ٹی پر عائد کرتے ہوئے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔
والدین کا مؤقف تھا کہ چیٹ جی پی ٹی نے ان کے بیٹے کے خیالات کو فلسفیانہ موضوعات کی جانب موڑنے میں کردار ادا کیا اور زندگی و موت سے متعلق ایسے خیالات پیش کیے، جنہوں نے ماتیاس کے ذہن میں خطرناک تصورات کو تقویت دی۔

