دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے ہیکرز نے تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کر لیے ہیں۔ بلاک چین تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ڈیجیٹل اثاثوں کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات میں شمالی کوریا کے ہیکرز کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بائنانس اور بلاک چین ریکارڈز کے ماہرین کے تجزیے کے مطابق ہیکرز نے ایکسچینج کے ان ڈیجیٹل والٹس سے تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی نکال لی جو لین دین کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
بائنانس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی طور پر اسے شبہ تھا کہ حملہ ایک ہیک ہونے والے لیپ ٹاپ کے ذریعے کیا گیا تاہم بعد کی تحقیقات میں سکیورٹی کی خلاف ورزی کے مزید مقامات کا پتا چلا ہے۔ کمپنی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
Binance’s initial investigation suggests that the security incident may involve a compromised DevOps engineer’s laptop, which allowed an attacker to gain access to a service container and submit unauthorized withdrawal transactions. We have found no evidence of any wallet private key leak. We will share a detailed technical post-mortem once the investigation is complete and the facts are fully verified.
The estimated total impact sits at around $6.3B. We have worked with blockchain partners to freeze affected assets, with ~$3 billion frozen on-chain so far.
Binance will cover all losses from the SAFU fund and the company’s funds. User funds are safe. We will also publish an updated Proof of Reserves once the remediation is complete.As an immediate precaution, Binance has:
– temporarily suspended deposits and withdrawals while security checks are completed;
– revoked the affected address authorisation;
– engaged law enforcement and blockchain intelligence partners to trace and recover funds.Our teams are working around the clock to resolve this issue safely and thoroughly. We are working closely with our law enforcement partners to confirm the identity of these criminals and bring them to justice.
Please rely only on official Binance channels for updates. Please feel free to contact Binance Customer Support if you have any further questions.
https://t.co/ywB2mKFy0p
— Binance (@binance) October 30, 2026
ایکسچینج کے پاس صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک ارب ڈالر مالیت کا بٹ کوائن ریزرو بھی موجود ہے، جسے سکیورٹی کی خلاف ورزی کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ صارفین کے نقصانات کی ادائیگی اس فنڈ اور کمپنی کے اپنے وسائل سے کی جائے گی۔
امریکی بلاک چین تجزیاتی ادارے ٹی آر ایم لیبز کے مطابق ہیکرز نے بائنانس کے اس سسٹم تک رسائی حاصل کر لی تھا جو لین دین کی اجازت دینے کے لیے ڈیجیٹل دستخطوں کی توثیق کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ہیکرز نے متاثرہ والٹس سے رقوم نکالنے کی ہدایات جاری کیں۔
بلاک چین ریکارڈز کے مطابق چوری کا بیشتر حصہ جمعرات کو رات 8 بجے(جی ایم ٹی) کے کچھ ہی دیر بعد تقریباً 20 منٹ میں مکمل کیا گیا۔
رقوم منتقل کرنے کے بعد ہیکرز نے انہیں بائنانس کے کاروباری شراکت داروں اور اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنیوں کی پہنچ سے دور منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم چوری شدہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف منجمد کر دیے گئے۔
حملے کے پیچھے کون ہے؟
امریکی بلاک چین تجزیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اس سائبر حملے کے طریقہ کار میں شمالی کوریا کے ہیکرز کی ماضی کی کارروائیوں سے مماثلت پائی جاتی ہے۔
رچرڈ ٹینگ کے مطابق بائنانس کی تحقیقات میں تاحال ہیکرز کی شناخت نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب شمالی کوریا ماضی میں بھی سائبر حملوں اور کرپٹو کرنسی کی چوری میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
ٹی آر ایم لیبز کے مطابق اس حملے میں گزشتہ سال کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ پر ہونے والے سائبر حملے جیسی خصوصیات پائی گئی ہیں، جس کا ذمہ دار امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے شمالی کوریا کے ہیکرز کو قرار دیا تھا۔
ادارے نے اس بات پر بھی بھرپور اعتماد کا اظہار کیا کہ بائنانس سے چوری کے پیچھے بھی وہی گروہ ملوث ہے۔
چوری شدہ رقم کہاں ہے؟
چوری ہونے والے ڈیجیٹل اثاثوں میں سے تقریباً نصف اسٹیبل کوائنز تھے جنہیں جاری کرنے والی کمپنیوں ٹیتر، سرکل، رپل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے کرپٹو منصوبے ورلڈ لبرٹی فنانشل نے منجمد کر دیا ہے۔
View this post on Instagram
تاہم اثاثے منجمد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بائنانس کو واپس مل جائیں گے البتہ اس سے ہیکرز کے لیے انہیں نقد رقم میں تبدیل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ٹی آر ایم کے مطابق چوری شدہ کچھ رقم کو ایتھیریم ادھار لینے کے لیے بطور ضمانت بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ تقریباً 2 ارب 40 کروڑ ڈالر مالیت کے بٹ کوائن اور ایتھیریم تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
بلاک چین انٹیلی جنس فرم چین آرگوس کے جنرل کونسل پیٹرک ٹین کے مطابق بٹ کوائن اور ایتھیریم کو کوئی کمپنی منجمد نہیں کر سکتی کیونکہ انہیں کوئی ایک ادارہ جاری نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کرپٹو کرنسیز کو صرف اسی صورت روکا جا سکتا ہے جب ہیکرز انہیں ایسے ایکسچینج یا بروکر کے پاس منتقل کریں جو انہیں منجمد کرنے کی صلاحیت اور آمادگی رکھتا ہو، یا قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی نجی ڈیجیٹل چابیاں حاصل کر لیں۔
اب آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق ہیکرز چوری شدہ کرپٹو کرنسی کو دیگر اثاثوں کے ساتھ ملانے یا نسبتاً کم معروف کرپٹو کرنسیز اور ایکسچینجز کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اسٹیبل کوائن انفرااسٹرکچر کمپنی ٹریس فنانس کے چیف ایگزیکٹو برنارڈو برائٹس کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ چوری شدہ رقم کو دوسرے ایکسچینجز یا ادائیگی کے نظام تک پہنچانا مشکل ہوتا جائے گا کیونکہ مختلف ادارے ان اثاثوں کی شناخت کرکے انہیں بلیک لسٹ کر سکتے ہیں۔
ٹی آر ایم لیبز کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 150 مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 2 ارب 90 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوئی تھی۔
اس حملے نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ جمعے کو کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ اسٹیبل کوائنز کی مجموعی مارکیٹ ویلیو بھی نیچے آگئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار ڈیجیٹل اثاثوں سے اپنی سرمایہ کاری نکال رہے ہیں۔

