اوپن اے آئی نے میٹا کے مقابلے میں خودکار کام کرنے والے نئے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس “ڈاٹس” متعارف کرا دیئے، جو صارفین کی ہدایات پر مختلف ایپس میں خودکار طور پر کام انجام دے سکیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی نے “ڈاٹس” گزشتہ روز سان فرانسسکو میں سالانہ ڈویلپر ڈے کے موقع پر متعارف کرائے۔
کمپنی کے مطابق یہ ایجنٹس کاروباری منصوبوں کو سنبھالنے، دستاویزات تیار کرنے، ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، تحقیق کرنے اور سافٹ ویئر بنانے سمیت مختلف کام انجام دے سکتے ہیں۔ ڈاٹس ہر وقت فعال رہ سکتے ہیں اور صارفین کی جانب سے مقرر کردہ اہداف حاصل کرنے کے لیے مختلف ایپس پر خود کام کرسکتے ہیں۔ جبکہ صارفین سلیک اور مائیکروسافٹ ٹیمز کے ذریعے بھی ان ایجنٹس سے رابطہ کرسکیں گے۔
سیم آلٹمن کا ڈاٹس کو نیا طریقہ قرار دینے کا دعویٰ
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹ مین نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ڈاٹس مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنے کا ایک نیا طریقہ ثابت ہوں گے۔ اور نئے ایجنٹس کمپنی کے اس ماڈل پر کام کرتے ہیں جسے جی پی ٹی 6 آسٹرا کا نام دیا گیا ہے، جبکہ ان کی حفاظتی جانچ بھی کی گئی ہے۔
تقریب کے دوران ڈاٹس کی عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا گیا، تاہم براہ راست ڈیمو کے دوران ایجنٹس کئی مرتبہ صوتی پیغامات دینے میں ناکام رہے۔
اوپن اے آئی کے شعبہ ڈویلپر ایکسپیرینس کے سربراہ رومین ہیوٹ نے صوتی نظام میں مشکلات کا اعتراف کیا، جبکہ کمپنی کے ایک ملازم نے ایکس پر بتایا کہ بیک وقت متعدد اپ ڈیٹس جاری کیے جانے کے باعث مسائل پیش آئے۔
کاروباری ڈیٹا کے تحفظ کیلئے اقدامات
اوپن اے آئی کے مطابق ڈاٹس ایسے کاروباری منصوبوں کو بھی سنبھال سکیں گے جن کی ضروریات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ صارفین کی ضروریات بدلنے پر ایجنٹس فروخت کی تجاویز میں ترمیم کرنے اور جائزے کے لیے عملی نمونے تیار کرنے جیسے کام بھی انجام دے سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق ڈاٹس کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی ورک کی مدد سے تحقیق، ڈیٹا کے تجزیے، دستاویزات کی تیاری اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے کام کرسکیں گے۔
اوپن اے آئی نے ایجنٹس کے تحفظ اور صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ صارفین قواعد طے کرسکیں گے کہ ایجنٹس کون سے کام خود انجام دے سکتے ہیں اور کن کاموں کے لیے انہیں اجازت لینا ہوگی۔ پاس ورڈ تبدیل کرنے اور ڈیٹا مستقل طور پر حذف کرنے جیسے حساس کاموں کے لیے صارف کی واضح اجازت لازمی ہو گی۔
کمپنی کے مطابق ڈاٹس اپنے علیحدہ کلاؤڈ کمپیوٹرز پر کام کریں گے، جبکہ کاروباری صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے نجی انٹیلی جنس ٹولز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ کاروباری صارفین کا ڈیٹا بطور ڈیفالٹ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔
Introducing dots, powered by GPT-6 Astra.
Remarkably capable, always-on agents built to handle everything. pic.twitter.com/inY5BZj3Kz
— OpenAI (@OpenAI) September 29, 2026
دوسری جانب خودکار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ان کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ اوپن اے آئی کے بعض ایجنٹس کی جانب سے ہیگنگ فیس کے نظام اور آسٹریلیا کی سرکاری صحت کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے کے واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی 53 تصاویر افشا ہونے کا واقعہ سامنے آیا، جس کے مکمل دائرہ کار کا کمپنی جائزہ لے رہی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس کے صارفین میں اضافہ
اوپن اے آئی کے مطابق کوڈیکس اور چیٹ جی پی ٹی ورک کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد ایک ارب 20 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔
کمپنی نے کاروباری ٹیموں اور مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے لیے مشترکہ ورک اسپیس ’چیٹ جی پی ٹی اسپیس‘ متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ کم قیمت جی پی ٹی 6.1 سول ماڈل اور ماہانہ 500 ڈالر کا پرو پلان بھی پیش کیا جا رہا ہے۔
اوپن اے آئی کی جانب سے نئے خودکار ایجنٹس کا اجرا ایسے وقت میں ہوا ہے جب مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے درمیان خودکار خدمات فراہم کرنے کی دوڑ تیز ہوگئی ہے۔



