ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان کے مطابق افغان سرحدی پوسٹوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے متعدد افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اپنے ایک بیان میں ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان نے بتایا کہ انگور اڈا میں افغان چیک پوسٹوں سے ہونے والی فائرنگ کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا۔ جس کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سرحدی علاقوں میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان نے کہا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
انگور اڈہ، جنوبی وزیرستان | 1 نومبر 2026
افغان سرحدی پوسٹوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افغان سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی فورسز کے شدید ردعمل پر افغان طالبان اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
تاحال پاکستانی جانب سرحدی علاقوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔ پاکستانی فورسز ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
— Deputy Commissioner South Waziristan Lower (@dcswlower) November 1, 2026
اس سے قبل 27 اکتوبر کو بھی انگور اڈہ میں افغان سرحدی فورسز کی جانب سے پاکستانی چوکیوں اور شہری آبادی پر فائرنگ اور مارٹر گولے داغے گئے تھے۔ جس میں ایک شہری جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ متعدد دکانوں اور مکانات کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں اور دفاعی مورچوں کو نشانہ بنایا تھا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کئی ماہ سے جاری ہے۔ اس سے قبل بھی سرحدی علاقوں میں فائرنگ، مارٹر حملوں اور ڈرونز کی دراندازی کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملے کیے جارہے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستانی مؤقف کو مسترد کرتی ہے۔ سرحدی جھڑپوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ برقرار ہے۔


