بھارت میں ووٹر فہرستوں میں متنازع نظرثانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت نئی دہلی میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کی شرکت متوقع ہے، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ احتجاج میں لاکھوں افراد شریک ہوسکتے ہیں جسے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔
#WATCH | Delhi: Visuals from the Ramlila Maidan ahead of the INDIA bloc’s mega rally today. https://t.co/B70nu2RCQV
— ANI (@ANI) November 1, 2026
نئی دہلی میں احتجاج کے مقام پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی گاڑیاں بھی تعینات کی گئیں جبکہ حکام نے احتجاجی مارچ اور ریلی کے پیش نظر ٹریفک ڈائیورژن کی وارننگ جاری کردی۔
اپوزیشن جماعتوں نے اتوار کو وسطی دہلی سے رام لیلا میدان تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں احتجاجی ریلی منعقد کی جائے گی۔
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کی ویڈیو میں احتجاجی مقام کے باہر ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی گاڑیاں اور لاٹھیوں سے لیس درجنوں سکیورٹی اہلکار دیکھے جاسکتے ہیں۔
#WATCH | Delhi: Security deployed outside Ramlila Maidan ahead of the INDIA bloc’s mega rally. https://t.co/Lg52NVXHHu
— ANI (@ANI) November 1, 2026
دہلی ٹریفک پولیس کے مطابق احتجاج کے مقام پر بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد متوقع ہے جس کے باعث ضرورت کے مطابق ٹریفک قوانین اور ڈائیورژن نافذ کیے جائیں گے۔
سینئر پولیس افسر روہت راجبیر نے اے این آئی کو بتایا کہ ریلی میں شرکت کے لیے لوگ آنا شروع ہوگئے ہیں، احتجاجی مقام پر مناسب انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ مارچ کے راستے پر بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیوں؟
اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ ماہ سے تقریباً روزانہ احتجاج کررہی ہیں، ان مظاہروں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
احتجاج کی وجہ ووٹر فہرستوں میں نظرثانی کا وہ عمل ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں کو اعتراض ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹرز کے نام غلط طور پر خارج کیے گئے ہیں وہ دوبارہ اندراج کراسکتے ہیں۔
دوسری جانب بی جے پی نے اپوزیشن جماعتوں پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے اور جائز انتخابی عمل پر بلاجواز سوال اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے ستمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے دو نائبین نے ووٹر فہرستوں میں نظرثانی، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق کئی خدشات داخلی طور پر اٹھائے تھے۔
گزشتہ سال شروع ہونے والے اس عمل کے دوران ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے جو جاپان کی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خارج کیے گئے ناموں میں 2 کروڑ 80 لاکھ افراد ایسے تھے جو انتقال کرچکے تھے، 6 کروڑ 30 لاکھ افراد دوسری جگہ منتقل ہوگئے تھے، جبکہ 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے عمل سے مسلمان ووٹرز اور دیگر اقلیتیں زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جو ہندو قوم پرست حکمران جماعت کی حمایت نہیں کرتے تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوانوں کے احتجاج اور اپوزیشن کی بڑھتی حمایت کو وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کی حکومت کے لیے بدترین بحران قرار دیا جارہا ہے۔
