بھارت میں ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کے خلاف احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، جہاں پولیس نے نئی دہلی میں مظاہرین کے ایک گروپ کو حراست میں لے لیا۔
احتجاج کی حمایت نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم کاکروچ جنتا پارٹی اور دیگر اپوزیشن و سول سوسائٹی گروپس کر رہے ہیں۔ہفتے کے روز تقریباً 100 مظاہرین نے سکیورٹی بیریئرز ہٹا دیے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔
رائٹرز کے مطابق پولیس نے بعض مظاہرین کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا، تاہم حکام نے زیرحراست افراد کی تعداد اور شناخت کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
رائٹرز کے ایک گواہ کے مطابق احتجاج میں رکن پارلیمنٹ کپل سبل، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا، سیاسی کارکن پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو بھی شریک تھے۔ نیہا بورا نے الزام عائد کیا کہ پہلے لوگوں کے نام ووٹر فہرستوں سے نکالے گئے اور اب اس معاملے کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی روکا جا رہا ہے۔
مظاہرین کا الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی حالیہ تبدیلیاں وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔ احتجاج کرنے والے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل انتخابی فہرستوں سے جعلی، دہری، فوت شدہ یا نااہل ووٹرز کے نام ختم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ کمیشن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جا رہی ہے۔
ووٹر فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی پر تنازع
رائٹرز کے مطابق گزشتہ برس شروع کیے گئے ووٹر تصدیقی عمل کے دوران تقریباً 13 کروڑ افراد کے نام ابتدائی فہرستوں سے خارج ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے اہل ووٹرز بھی متاثر ہوئے ہیں اور خاص طور پر بعض ریاستوں میں ناموں کے اخراج اور دوبارہ شمولیت کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ کمیشن کے مطابق نظرثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست اور قابلِ اعتماد بنانا ہے جبکہ اہل ووٹرز کو فہرست میں شامل ہونے اور اعتراضات یا دعوے جمع کرانے کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔ کمیشن نے حال ہی میں حکام کو ہدایت کی ہے کہ نئے اہل ہونے والے اور فہرست سے رہ جانے والے ووٹرز کی رجسٹریشن یقینی بنائی جائے۔
دہلی میں پہلے روز بھی بڑے پیمانے پر کارروائی
رائٹرز کے مطابق جمعے کو بھی نئی دہلی میں مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے پولیس نے کارروائی کی اور متعدد افراد کو بسوں میں منتقل کیا۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث قریبی بعض میٹرو اسٹیشن بھی بند رہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جمعے کو حراست میں لیے گئے متعدد افراد کو بعد میں رہا کردیا گیا، جبکہ کچھ افراد کے خلاف دہلی میں بڑے اجتماعات پر عائد پابندی کی مبینہ خلاف ورزی کے تحت کارروائی کی گئی۔

یہ احتجاج بھارت میں رواں سال سامنے آنے والی نوجوانوں کی قیادت میں تحریکوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے ووٹر فہرستوں کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے جبکہ طلبہ، سول سوسائٹی اور اپوزیشن گروپس بھی مختلف شہروں میں مظاہروں کی حمایت کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق یہ تحریک اس وقت سامنے آئی ہے جب مودی حکومت کو اپنے تقریباً 12 سالہ اقتدار کے دوران نوجوانوں کی جانب سے احتجاج اور سیاسی دباؤ کے ایک نئے سلسلے کا سامنا ہے۔ تاہم احتجاج کرنے والے گروپس کے دعووں اور حکومت یا الیکشن کمیشن کے مؤقف کو الگ الگ دیکھا جانا ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف کیا ہے؟
بھارتی الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو لوک سبھا، راجیہ سبھا، ریاستی اسمبلیوں اور صدر و نائب صدر کے انتخابات کا انتظام کرتا ہے۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے فروری 2025 میں عہدہ سنبھالا تھا۔
کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق Special Intensive Revision (SIR) 2026 کے تحت ووٹر فہرستوں کی نظرثانی، نئے ووٹرز کی رجسٹریشن اور انتخابی فہرست میں موجود ناموں کی تصدیق کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ شہری اپنے نام انتخابی فہرست میں تلاش کرنے، نئے اندراج اور نام یا معلومات کی درستگی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
تنازع اس وقت مزید بڑھا جب اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے اور کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات سے متعلق رپورٹس سامنے آئیں۔ رائٹرز کے مطابق کمیشن نے ووٹر فہرستوں کے سافٹ ویئر اور نظرثانی کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔
احتجاج کا اگلا مرحلہ
احتجاجی تحریک میں کاکروچ جنتا پارٹی کے علاوہ طلبہ اور اپوزیشن گروپس بھی شامل ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کے پھیلنے کے امکانات کے باعث سیاسی کشیدگی میں اضافے کا امکان موجود ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی اور اہل ووٹرز کی شمولیت کے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
یوں بھارت میں جاری تنازع کا مرکزی محور ووٹروں کی فہرستوں کی درستگی، اہل ووٹرز کے حقوق، الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور ادارے پر اعتماد کے سوالات ہیں جبکہ حکومت، الیکشن کمیشن اور احتجاج کرنے والے گروپس ان معاملات پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔



