امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے دوبارہ مذاکرات کیلیے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط بھیجا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارتکاری کو کامیاب ہونے کا ایک اور موقع دے رہا ہے۔
امریکی نائب صدر کا یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی دی ہے، ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا اور اس حوالے سے جلد کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے وسط مدتی انتخابات داخلی سیاسی اعتبار سے اہم ہیں کیونکہ انتخابی نتائج کانگریس میں ان کی جماعت کی پوزیشن اور آئندہ حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ خط ممکنہ مذاکرات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، تاہم خط میں کسی حتمی امن معاہدے کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ سخت گیر ایرانی رہنماؤں سے براہ راست بات چیت بہتر نتائج دے سکتی ہے۔
Exclusive: JD Vance has engaged one of Iran’s most powerful hard-liners to revive peace talks even as Trump threatens to restart the war after next week’s midterms https://t.co/mEkF1V7DdB
— The Wall Street Journal (@WSJ) October 28, 2026
رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر نے وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل یہ رابطہ کیا، جبکہ صدر ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ خط بھیجنے کی ہدایت صدر ٹرمپ نے دی تھی۔ اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطے کی یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ عوامی سطح پر فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
جے ڈی وینس کو جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والا رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ دونوں ملکوں کے مؤقف میں ایسا درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے صدر ٹرمپ ایران پر مزید حملوں کا فیصلہ مؤخر کرنے پر آمادہ ہو سکیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے خلیجی ممالک کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ طور پر مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا بھی کہا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابھی تک حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بعض سفارت خانوں سے سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانے، حساس فوجی اڈوں سے اہلکاروں کو منتقل کرنے اور اسرائیل کو اضافی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ہماری بہادر مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا ایک اور موقع دے رہا ہے۔
While our Brave Armed Forces are fully prepared to defend the Homeland, Iran continues to give diplomacy a chance to succeed.
We remain in close and ongoing contact with intermediaries to review ideas that can ensure implementation of our 7-Day Plan in even less than a week.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) October 28, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ہم ثالثوں کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں ہیں تاکہ ایسی تجاویز کا جائزہ لیا جا سکے جن کے ذریعے ہمارے سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔ محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران امریکی مفادات سے وابستہ تنصیبات، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔



