کراچی کی عدالت نے این سی سی آئی اے (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) کی جانب سے درج مقدمے میں ٹی وی میزبان اور پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ سید اقرار الحسن کی درخواست ضمانت منظور کرلی ہے۔
عدالت نے 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ گلریز میمن نے آج سٹی کورٹ میں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔ اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کو لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے حراست میں لیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل احمد مسعود نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا چالان پہلے ہی جمع کرایا جا چکا ہے جبکہ اینکر پرسن کے موبائل فون بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اقرار الحسن کی درخواست ضمانت منظور ہونے کے بعداحمد مسعود ایڈووکیٹ کی سٹی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو https://t.co/xgdNcj3rnJ
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) October 31, 2026
این سی سی آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اقرار الحسن سے مزید تفتیش کی ضرورت نہیں، تاہم ان کی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔ اس پر عدالت نے ان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے مطلوبہ ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر رہائی کا حکم دے دیا۔
اقرار الحسن کو اکتوبر میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) نے انہیں چار روز کے لیے این سی سی آئی اے کی تحویل میں دے دیا تھا۔
این سی سی آئی اے نے ان پر اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر ریاست مخالف، جھوٹا اور ہتک آمیز مواد شائع کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
ان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 24 اور 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اقرار الحسن کی گرفتاری کے بعد ان کی اہلیہ فرح اقرا نے الزام عائد کیا تھا کہ 12 اکتوبر کی علی الصبح سادہ لباس میں ملبوس افراد لاہور میں ان کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ساتھ لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ چھاپہ مار ٹیم ان کے شوہر کے دو موبائل فونز، ایک لیپ ٹاپ اور ان کا اپنا موبائل فون بھی ساتھ لے گئی۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ پولیس نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا اور معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
