پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد بڑھ کر 3 کروڑ 24 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گزشتہ چار برس کے دوران ایسے مریضوں کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب میں انکشاف کیا ہے کہ 2019 میں ملک میں ذہنی امراض سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 کروڑ تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 3 کروڑ 24 لاکھ ہوگئی۔
وزارت صحت کے مطابق یہ اعدادوشمار عالمی ادارہ برائے صحت کے تحت کام کرنے والے عالمی تحقیقی منصوبے گلوبل برڈن آف ڈیزیز اسٹڈی سے حاصل کیے گئے ہیں نہ کہ وزارت کے اپنے مریضوں کے ریکارڈ سے۔
اس حوالے سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صبیحہ اسلم سومرو نے ذہنی امراض کے مریضوں کی تعداد، علاج کی سہولیات اور ماہرین کی دستیابی سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔
ہر سال تقریباً 6 لاکھ افراد ذہنی امراض سے متاثر ہو رہے ہیں
اعدادوشمار کے مطابق 2019 سے 2023 کے دوران ذہنی امراض کے مریضوں کی تعداد میں تقریباً 24 لاکھ اضافہ ہوا، یعنی اوسطاً ہر سال 6 لاکھ مزید افراد اس مسئلے سے متاثر ہوئے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق اس اضافے کی وجوہات میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل میں حقیقی اضافہ بھی شامل ہے، تاہم اب لوگوں میں ذہنی صحت کے مسائل کے حوالے سے آگاہی بڑھنے اور علاج حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی ہونے سے بھی زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کی سینئر کلینیکل سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر عاصمہ محبوب خان کے مطابق ذہنی امراض کے کیسز میں اضافہ حقیقی نفسیاتی دباؤ کے ساتھ ساتھ علاج کے لیے ماہرین سے رجوع کرنے کے رجحان میں اضافے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی مشکلات، بے روزگاری اور خاندانی تنازعات ذہنی امراض کی بڑی وجوہات
پولی کلینک اسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر عباد الحق کے مطابق معاشی دباؤ، سیلاب، نقل مکانی اور عدم تحفظ جیسے عوامل ذہنی صحت کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ ذہنی امراض سے متعلق سماجی بدنامی میں کمی آنے سے بھی زیادہ لوگ علاج کے لیے سامنے آرہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈپریشن اور انزائٹی پاکستان میں عام ذہنی مسائل میں سرفہرست ہیں، جن سے بالخصوص خواتین اور نوجوان متاثر ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر عاصمہ محبوب خان کے مطابق بے روزگاری، معاشی مشکلات، خاندانی تنازعات، تعلیمی دباؤ اور معاشرتی عدم استحکام نوجوانوں اور خواتین میں ذہنی مسائل بڑھانے کی اہم وجوہات ہیں۔
سوشل میڈیا اور دوسروں سے مسلسل موازنہ نوجوانوں کے لیے نیا چیلنج
پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کے واحد ماہر نفسیات ڈاکٹر وحید رزاق کے مطابق صارفیت پر مبنی معاشرتی رجحانات اور سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو متاثر کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر مسلسل دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرنے کا رجحان بھی نفسیاتی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
اسلام آباد میں 3 لاکھ سے زائد ذہنی مریض، صوبوں کا مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں
وزارت صحت کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 2023 کے دوران ذہنی امراض سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ ایک ہزار 266 ریکارڈ کی گئی، جو شہر کی تقریباً 23 لاکھ 60 ہزار آبادی کا لگ بھگ آٹھواں حصہ بنتی ہے۔
تاہم ملک کے دیگر علاقوں میں ذہنی امراض کے مریضوں کی مکمل تفصیلات وفاقی وزارت صحت کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔
وزارت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، اس لیے صوبائی سطح کے اعدادوشمار متعلقہ محکموں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
کلینیکل سائیکالوجسٹس کی تعداد سے متعلق بھی وزارت کے پاس اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔
پاکستان میں ہر 2 لاکھ 45 ہزار افراد کے لیے صرف ایک ماہر نفسیات
پاکستان ہیلتھ ورک فورس اسنیپ شاٹ 2026 کے مطابق ملک میں 1050 رجسٹرڈ سائیکاٹرسٹس موجود ہیں، جبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 77 لاکھ بتائی گئی ہے۔ اس تناسب سے ہر 2 لاکھ 45 ہزار 400 افراد کے لیے صرف ایک ماہر نفسیات دستیاب ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق رجسٹرڈ سائیکاٹرسٹس کی تمام تعداد عملی طور پر پاکستان میں خدمات انجام نہیں دے رہی۔ ڈاکٹر عباد الحق کا اندازہ ہے کہ کم تنخواہوں اور ناکافی سہولیات کے باعث متعدد ماہرین ملک چھوڑ چکے ہیں اور عملی طور پر کام کرنے والے سائیکاٹرسٹس کی تعداد 900 سے بھی کم ہوسکتی ہے۔
صوبائی سطح پر 2024 کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں 406، سندھ میں 228، خیبرپختونخوا میں 122 جبکہ بلوچستان میں صرف 44 سائیکاٹرسٹس موجود ہیں۔
2023 کی مردم شماری کی آبادی کے مطابق پنجاب میں ہر 3 لاکھ 15 ہزار، خیبرپختونخوا میں ہر 3 لاکھ 35 ہزار اور بلوچستان میں ہر 3 لاکھ 38 ہزار افراد کے لیے ایک ماہر نفسیات دستیاب ہے۔
ماہرین کے مطابق ان میں سے بھی زیادہ تر ماہرین بڑے شہروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جس کے باعث دیہی علاقوں کے مریضوں کو علاج کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔
کئی اضلاع میں مستقل ماہر نفسیات موجود نہیں
ڈاکٹر وحید رزاق کے مطابق منڈی بہاؤالدین میں وہ واحد ماہر نفسیات ہیں جبکہ قریبی اضلاع حافظ آباد، خوشاب اور چکوال میں بھی مستقل بنیادوں پر ماہر نفسیات دستیاب نہیں، وہاں صرف وزٹنگ ڈاکٹرز خدمات فراہم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں مریضوں کو ماہرین تک رسائی نسبتاً آسان ہے لیکن دیہی علاقوں میں صورتحال بالکل مختلف ہے اور مریضوں کو علاج کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔
ڈاکٹر عباد الحق کے مطابق بعض دیہی مریضوں کو ماہر ڈاکٹر تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے، ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور بالآخر انہیں محدود وقت کے لیے معائنہ میسر آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سہولیات کی کمی کے باعث بہت سے مریض پہلے روحانی معالجین اور حکیموں سے رجوع کرتے ہیں، جبکہ کئی افراد مناسب تشخیص اور علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
حکومت کے پاس منصوبے موجود، مگر ماہرین اور بجٹ کی کمی برقرار
وزارت صحت نے قومی اسمبلی میں اپنے جواب میں ذہنی صحت کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات اور منصوبوں کا ذکر کیا ہے، جن میں نیشنل ایکشن فریم ورک فار نان کمیونیکیبل ڈیزیزز اینڈ مینٹل ہیلتھ 2021-2030، اسلام آباد میں منعقدہ گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ، مجوزہ قومی مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035، اسلام آباد ڈیکلریشن، ہیلپ لائن 1166 اور ایک ذیلی کمیٹی کا قیام شامل ہیں۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے 5 اکتوبر 2026 کو قومی اور صوبائی حکام، ماہرین تعلیم اور عالمی ادارہ صحت، یونیسیف سمیت دیگر اداروں کے نمائندوں کی موجودگی میں پاکستان کی قومی مینٹل ہیلتھ پالیسی کا اجرا بھی کیا تھا۔
حکومتی منصوبوں میں عالمی ادارہ صحت کے مینٹل ہیلتھ گیپ ایکشن پروگرام (mhGAP) کے تحت بنیادی صحت مراکز کے ڈاکٹروں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ذہنی امراض کی ابتدائی تشخیص اور علاج کی تربیت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت عام ذہنی مسائل کے مریضوں کا ابتدائی علاج بنیادی صحت مراکز میں ممکن بنایا جائے گا، جبکہ پیچیدہ اور شدید نوعیت کے مریضوں کو ماہر سائیکاٹرسٹس کے پاس بھیجا جائے گا۔
پاکستان میں پہلے ہی پروبلم مینجمنٹ پلس اور ارلی ایڈولیسنٹ اسکلز فار ایموشنز جیسے کم خرچ نفسیاتی علاج کے پروگرام تیار اور آزمائے جا چکے ہیں، جنہیں عالمی ادارہ صحت بھی استعمال کر رہا ہے۔
تربیت اور نگرانی کے بغیر بنیادی صحت مراکز کا نظام مؤثر نہیں ہوگا، ماہرین
تینوں ماہرین نفسیات نے بنیادی صحت کے نظام میں ذہنی صحت کی سہولیات شامل کرنے کی حمایت کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے مناسب تربیت، ادویات، وسائل اور ماہرین کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔
ڈاکٹر عاصمہ محبوب خان کے مطابق ہر ڈپریشن اور انزائٹی کے مریض کا علاج صرف سائیکاٹرسٹ کے ذریعے ممکن نہیں، اس لیے بنیادی صحت کے عملے کو تربیت دینا ضروری ہے، تاہم شدید اور پیچیدہ کیسز کو ماہرین کے پاس بھیجنے کا مؤثر نظام ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر عباد الحق کے مطابق ماہرین کی کمی سے نمٹنے کے لیے بنیادی صحت کے عملے کو ذمہ داریاں منتقل کرنا ایک حقیقت پسندانہ راستہ ہے، لیکن تربیت، نگرانی اور ادویات کے بغیر یہ اقدام محض ایک منصوبے کا نام رہ جائے گا۔
ذہنی صحت کے لیے مخصوص بجٹ اور ہیلتھ کارڈ میں سہولیات شامل کرنے کا مطالبہ
ماہرین نے ذہنی صحت کے شعبے میں مالی وسائل کی کمی کو بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ وزارت صحت کے تحریری جواب میں سائیکاٹرسٹس کی تعداد بڑھانے کے لیے کوئی واضح ہدف یا مخصوص بجٹ پیش نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر عاصمہ محبوب خان نے ذہنی صحت کو بنیادی طبی سہولیات کا لازمی حصہ بنانے اور ضلعی و کمیونٹی سطح پر مناسب فنڈز مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر عباد الحق نے ذہنی صحت کے لیے مختص بجٹ اور ماہرین کی بہتر تنخواہوں کا مطالبہ کیا تاکہ ملک سے ماہر ڈاکٹروں کی بیرون ملک منتقلی روکی جا سکے۔
صحت کارڈ میں ذہنی امراض کا علاج شامل نہیں، لاکھوں مریض اپنے خرچ پر علاج کرانے پر مجبور
ڈاکٹر وحید رزاق کے مطابق حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے صحت انشورنس پروگراموں، بشمول صحت کارڈ، میں ذہنی صحت کو باضابطہ طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق صحت کارڈ کے تحت نفسیاتی امراض میں ہسپتال داخلے، او پی ڈی علاج اور نشے کی لت سے متعلق علاج کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ذہنی صحت کو سرکاری صحت انشورنس پروگراموں میں شامل نہیں کیا جاتا اور علاج کے لیے مناسب فنڈز مختص نہیں ہوتے، ملک کے 3 کروڑ 24 لاکھ ذہنی امراض کے مریضوں کی بڑی تعداد کو اپنے خرچ پر علاج کرانا پڑے گا یا وہ علاج سے محروم رہے گی۔



