سندھ کے دارالحکومت کراچی میں رواں سال کا ساتواں پولیو کیس سامنے آ گیا۔
یاد رہے کہ کراچی میں پولیو کا آخری کیس دسمبر 2024 میں رپورٹ ہوا تھا۔
سندھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق یونین کونسل جمالی کالونی میں 6 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس نئے کیس کے بعد رواں سال پاکستان میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 7 ہو گئی ہے۔
حکام کا بتانا ہے کہ رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 5 کا تعلق خیبرپختونخوا اور 2 کا سندھ سے ہے۔
سندھ ای او سی کے مطابق نیا کیس اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ 5 سال سے کم عمر تمام بچوں کو ہر مہم کے دوران ویکسین پلانا کتنا ضروری ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق انسداد پولیو کی ملک گیر قومی مہم 2 سے 8 نومبر تک چلائی جائے گی۔
دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ستمبر میں ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے دوران ایک کروڑ، ایک لاکھ، 40 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
ستمبر کی پولیو مہم کے دوران سندھ بھر میں پولیو ٹیموں نے 85 لاکھ سے زائد گھروں کا دورہ کیا۔اس دوران تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار بچے پولیو ویکسین سے محروم رہ گئے جن میں سے تقریباً 2 لاکھ بچے گھروں پر دستیاب نہیں تھے۔
ستمبر کی پولیو مہم کے بعد صرف 0.41 فیصد ہدفی بچے والدین کے انکار کے باعث ویکسین سے محروم رہے جن میں سے 32 ہزار سے زائد کیس کراچی میں رپورٹ ہوئے۔
سکولوں، ٹرانزٹ پوائنٹس، فکسڈ سائٹس اور دیگر مقامات پر 15 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں ماحولیاتی نگرانی میں پولیو وائرس کی شرح ایک سال میں 83 فیصد سے کم ہو کر8 فیصد رہ گئی ہے۔
کراچی ایسٹ میں صرف ایک ماحولیاتی نگرانی کا مقام پولیو وائرس کے لیے مثبت ہے۔ کراچی سے باہر سندھ کے تمام 17 ماحولیاتی نگرانی مراکز ستمبر 2026 میں پولیو وائرس کے لیے منفی پائے گئے۔


